سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 247 of 539

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 247

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 215 اس سے زیادہ اور میں کچھ نہیں کہتا کہ تم لوگ ایک ایسے شخص کے ساتھ پیوند رکھتے ہو جو مامور من اللہ ہے پس اس کی باتوں کو دل کے کانوں سے سنو اور اس پر عمل کرنے کے لئے ہمہ تن تیار ہو جاؤ تا کہ ان لوگوں میں سے نہ ہو جاؤ جو اقرار کے بعد انکار کی نجاست میں گر کر ابدی عذاب خرید لیتے ہیں۔“ (ماخوذ از ملفوظات جلد اول صفحہ 103 تا 105) تقویٰ ہی ایک ایسی چیز ہے جس کو شریعت کا خلاصہ کہہ سکتے ہیں ایک موقع پر اس طرف توجہ دلاتے ہوئے کہ ہر احمدی کو تقویٰ کی راہ اختیار کرنی چاہیے کیونکہ شریعت کا خلاصہ ہی یہ تقویٰ ہے آپ فرماتے ہیں: چاہیے کہ وہ تقویٰ کی راہ اختیار کریں کیونکہ تقویٰ ہی ایک ایسی چیز ہے جس کو شریعت کا خلاصہ کہہ سکتے ہیں اور اگر شریعت کو مختصر طور پر بیان کرنا چاہیں تو مغز شریعت تقویٰ ہی ہو سکتا ہے۔ تقویٰ کے مدارج اور مراتب بہت ہیں لیکن اگر طالب صادق ہو کر ابتدائی مراتب اور مراحل کو استقلال اور خلوص سے طے کرے تو وہ اس راستی اور طلب صدق کی وجہ سے اعلیٰ مدارج کو پالیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ۔ إِنَّمَا يَتَقَبَّلُ اللهُ مِنَ الْمُتَّقِينَ (المائده: 28) گویا اللہ تعالیٰ متقیوں کی دعاؤں کو قبول فرماتا ہے۔ یہ گویا اس کا وعدہ ہے اور اس کے وعدوں میں۔ (یعنی اللہ تعالیٰ کے وعدوں میں ) تخلف نہیں ہوتا۔“ اللہ تعالیٰ اپنے وعدوں کے خلاف نہیں کرتا جیسا کہ فرمایا ہے۔ اِنَّ اللهَ لَا يُخْلِفُ الْمِيعَادَ (الرعد: 32) پس جس حال میں تقویٰ کی شرط قبولیت دعا کے لئے ایک غیر منفک شرط ہے تو ایک انسان غافل اور بے راہ ہو کر اگر قبولیت دعا چاہے تو کیا وہ احمق اور نادان نہیں ہے۔ تقویٰ تو شرط ہے اور اگر انسان غافل ہو اور پھر کہے میں نے قسمت سے آج ایک دعا کر لی تھی۔ آج میں نے بڑا لمبا سجدہ کر لیا تھا اور اللہ تعالیٰ نے قبول نہیں کیا تو اس کو کیا کہیں گے۔“ فرمایا: ” احمق اور نادان ہے وہ، بے وقوف ہے پاگل ہے۔“