سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 246 of 539

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 246

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم ان کی اصلاح نہیں ہو رہی۔ فرمایا: نہیں ، ہر گز نہیں۔“ دو فرمایا کہ: 214 ” یہ وعدہ تو ان لوگوں کے ساتھ ہے جو اللہ تعالیٰ کے اس وعدہ کی سچی قدر کرتے ہیں اور میری باتوں کو قصہ کہانی نہیں جانتے۔“ آپ فرماتے ہیں : یاد رکھو اور دل سے سن لو۔ میں پھر ایک بار ان لوگوں کو مخاطب کرکے کہتا ہوں جو میرے ساتھ تعلق رکھتے ہیں اور وہ تعلق کوئی عام تعلق نہیں بلکہ بہت زبر دست تعلق ہے اور ایسا تعلق ہے کہ جس کا اثر نہ صرف میری ذات تک بلکہ اس ہستی تک پہنچتا ہے جس نے مجھے بھی اس برگزیدہ انسان کامل کی ذات تک پہنچایا ہے جو دنیا میں صداقت اور راستی کی روح لے کر آیا۔ میں تو یہ کہتا ہوں کہ اگر ان باتوں کا اثر میری ہی ذات تک پہنچا تو مجھے کچھ بھی اندیشہ اور فکر نہ تھا اور نہ ان کی پر واہ تھی مگر اس پر بس نہیں ہوتی۔ اس کا اثر ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور خدائے تعالیٰ کی برگزیدہ ذات تک پہنچ جاتا ہے۔ پس ایسی صورت اور حالت میں تم خود دھیان دے کر سن رکھو کہ اگر اس بشارت سے حصہ لینا چاہتے ہو اور اس کے مصداق ہونے کی آرزو رکھتے ہو کہ قیامت تک تم فوقیت حاصل کرو کافروں پر اور اتنی بڑی کامیابی کہ قیامت تک کا فرین پر غالب رہو گے اس کی سچی پیاس تمہارے اندر ہے تو پھر اتنا ہی میں کہتا ہوں کہ یہ کامیابی اس وقت تک حاصل نہ ہو گی جب تک لوامہ کے درجہ سے گزر کر مطمئنہ کے مینار تک نہ پہنچ جاؤ۔“ برائی ہوتی بھی ہے تو دل اس پر ملامت کرنا چاہیے اور پھر کوشش ہونی چاہیے اس کے لئے اور پھر آہستہ آہستہ اللہ تعالیٰ کی مدد سے اللہ تعالیٰ کے قرب حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے اور اس وقت وہاں تک پہنچنا ہے جہاں اللہ تعالیٰ بھی راضی ہو۔ اپنی نیکی اور تقویٰ کے معیار کو بڑھانا ہو گا ، اللہ تعالیٰ سے خاص تعلق ہمیں پیدا کرنا ہو گا۔ یہ نہیں کہ پانچ نمازیں بھی وقت پر نہ پڑھ سکیں اور اپنے کام کی مصروفیت کا بہانہ ہم کر دیں۔ آپؐ فرماتے ہیں: