سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 245 of 539

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 245

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم اگر عمل نہیں تو وعدہ بھی پورا نہیں ہو گا 213 آپ علیہ السلام نے بارہا نصیحت فرمائی کہ جو آپ علیہ السلام کی باتوں پر عمل کرنے والے ہیں، ان سے خدا تعالیٰ کا ترقی کا وعدہ ہے۔ آپؐ نے فرمایا کہ : ”میرے ماننے والے علم و معرفت میں ترقی کریں گے۔“ دو فرمایا: ” یہ ان سے وعدہ ہے جو عمل کرنے والے ہیں نہ کہ ہر ایک جو کہے کہ میں مسیح موعود کی بیعت میں آگیا ہوں اور عمل نہیں ہے اس سے وعدہ ہر گز نہیں ہے۔“ اگر عمل نہیں تو وعدہ بھی پورا نہیں ہو گا۔ اللہ تعالیٰ سے خاص تعلق ہمیں پیدا کرنا ہو گا ایک جگہ اس بات کو بیان فرماتے ہوئے آپ نے فرمایا کہ : اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا ہے: وَجَاعِلُ الَّذِينَ اتَّبَعُوْكَ فَوْقَ الَّذِينَ كَفَرُوا إِلَى يَوْمِ الْقِيمَةِ ( آل عمران : 56) یہ تسلی بخش وعدہ ناصرت میں پیدا ہونے والے ابن مریم سے ہوا تھا مگر میں تمہیں بشارت دیتا ہوں کہ یسوع مسیح کے نام سے آنے والے ابنِ مریم کو بھی اللہ تعالیٰ نے انہی الفاظ میں مخاطب کر کے بشارت دی ہے۔ اب آپ سوچ لیں کہ جو میرے ساتھ تعلق رکھ کر اس وعدہ عظیم اور بشارت عظیم میں شامل ہونا چاہتے ہیں کیا وہ وہ لوگ ہو سکتے ہیں جو اتارہ کے درجے میں پڑے ہوئے ہوں۔ اللہ تعالیٰ اُنہیں کافروں پر فوقیت دے گا اور قیامت تک ان پر فوقیت دے گا جو صحیح اتباع کرنے والے ہیں۔ جو نہیں اتباع کرنے والے ان کو نہیں۔“ آپ نے فرمایا کہ اب آپ سوچ لیں کہ جو میرے ساتھ تعلق رکھ کر اس وعدہ عظیم اور بشارت عظیم میں شامل ہونا چاہتے ہیں کیا وہ وہ لوگ ہو سکتے ہیں جو اتارہ کے درجے میں پڑے ہوئے فسق و فجور کی راہوں پر کار بند ہیں ؟ جن کے دل چھوٹی برائیوں اور بڑی برائیوں میں مبتلا ہیں