سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 244
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 212 منبروں پر چڑھ کر اپنے تئیں نائب الرسول اور وارث الانبیا قرار دے کر وعظ کرتے پھرتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ تکبر ، غرور ، بدکاریوں سے بچو مگر جو ان کے اپنے اعمال ہیں اور جو کر تو تیں وہ خود کرتے ہیں، وہ ایسی باتیں ہیں فرمایا کہ اس سے تم اندازہ لگا سکتے ہو ان نصیحت کرنے والوں کی باتوں کا اثر نہیں ہوتا۔ اس لئے ہم میں سے ہر ایک کے لئے آپؐ نے فرمایا کہ تم نے اگر واعظ بنا ہے ، تم نے اسلام کا پیغام پہنچانا ہے تو ہر ایک کو اپنے قول و فعل کو ایک کرنا ہو گا تا کہ پھر دنیا پر بھی ہم اپنا اثر قائم کر سکیں۔ پھر آپ فرماتے ہیں: اگر اس قسم کے لوگ عملی طاقت بھی رکھتے۔“ جو یہ نصیحتیں کرتے ہیں اگر ان کی عملی طاقت بھی ہوتی۔ اور کہنے سے پہلے خود کرتے تو قرآن شریف میں لِمَ تَقُولُونَ مَا لَا تَفْعَلُونَ ۔ (الصف: 3) کہنے کی کیا ضرورت پڑتی ؟ یہ آیت بتلاتی ہے کہ دنیا میں کہہ کر خود نہ کرنے والے بھی موجود تھے اور ہیں اور ہوں گے ۔ “ (ماخوذ از ملفوظات جلد اول صفحہ 67) لیکن جو اللہ تعالیٰ کی نصیحتوں پر عمل کریں گے ان کی اصلاح بھی ہو جائے گی۔ عقل اور کلام الہی سے کام لو اپنی باتوں اور نصیحتوں پر عمل کرنے اور عقل اور کلام الہی سے کام لینے کی طرف توجہ دلاتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ : ”میری یہ باتیں اس لئے ہیں کہ تا تم جو میرے ساتھ تعلق رکھتے ہو اور اس تعلق کی وجہ سے میرے اعضاء ہو گئے ہو۔ ان باتوں پر عمل کرو اور عقل اور کلام الہی سے کام لو تا کہ سچی معرفت اور یقین کی روشنی تمہارے اندر پیدا ہو اور تم دوسرے لوگوں کو ظلمت سے نور کی طرف لانے کا وسیلہ بنو۔ اس لئے کہ آج کل اعتراضوں کی بنیاد طبعی اور طبابت اور ہیئت کے مسائل کی بناء پر ہے۔ اس لئے لازم ہوا کہ ان علوم کی ماہیت اور کیفیت سے آگاہی حاصل کریں تا کہ جواب دینے سے پہلے اعتراض کی حقیقت تو ہم پر کھل جائے۔“ (ملفوظات جلد اول صفحہ 68)