سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 242 of 539

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 242

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم پھر تو خاتمہ ہی سمجھو۔“ 210 تم تو بڑے دعوے کرتے ہو، مسلمانوں کی حالت آج کل تو اور بھی زیادہ باہر ظاہر ہو رہی ہے۔ فرمایا کہ اگر تم احمدی ہو کے بھی یہی رہے تو پھر تو خاتمہ ہی سمجھنا۔ فرمایا کہ : تم اپنے نفسوں کو ایسے پاک کرو کہ قدسی قوت ان میں سرایت کرے اور وہ سرحد کے گھوڑوں کی طرح مضبوط اور محافظ ہو جائیں۔ اللہ تعالیٰ کا فضل ہمیشہ متقیوں اور راستبازوں ہی کے شامل حال ہوا کرتا ہے۔ اپنے اخلاق اور اطوار ایسے نہ بناؤ جن سے اسلام کو داغ لگ جاویں۔ بد کاروں اور اسلام کی تعلیم پر عمل نہ کرنے والے مسلمانوں سے اسلام کو داغ لگتا ہے۔“ دو فرمایا کہ: 66 ” بدکاروں اور اسلام کی تعلیم پر عمل نہ کرنے والے مسلمان جو ہیں وہ تو اسلام کو داغ لگانے والے ہیں۔“ فرمایا: کوئی مسلمان شراب پی لیتا ہے تو کہیں قے کرتا پھرتا ہے۔ پگڑی گلے میں ہوتی ہے۔ موریوں اور گندی نالیوں میں گرتا پھرتا ہے۔ پولیس کے جوتے پڑتے ہیں۔ ہندو اور عیسائی اس پر ہنستے ہیں۔ اس کا ایسا خلاف شرع فعل اس کی ہی تضحیک کا موجب نہیں ہو تا بلکہ در پردہ اس کا اثر نفس اسلام تک پہنچتا ہے۔“ ایک شخص کا عمل جو ہے وہ اسی تک محدود نہیں رہتا بلکہ اس کے اثرات پھر اسلام تک پہنچتے ہیں۔ لوگ کہتے ہیں یہ مسلمان ہے دعویٰ یہ کرتا ہے عمل یہ کرتا ہے۔ فرمایا: دو کراتے ہیں۔“ اپنی بداعتدالیوں سے صرف اپنے آپ کو نقصان نہیں پہنچاتے بلکہ اسلام پر ہنسی پھر فرمایا: وو پس اپنے چال چلن اور اطوار ایسے بنالو کہ کفار کو بھی تم پر (جو دراصل اسلام پر ہوتی ہے) نکتہ چینی کرنے کا موقعہ نہ ملے۔“ (ملفوظات جلد اول صفحہ 77-78)