سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 241
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 209 کہنے لگا کہ اگر صرف نام ہی میں برکت ہوتی تو وہ کیوں مرتا۔ اگر کوئی مسلمان سے پوچھتا ہے کہ کیا تو مسلمان ہے ؟ تو وہ جواب دیتا ہے۔ الحمد للہ ۔ لیکن صرف نام کے مسلمان۔“ پس آپ نے اپنی جماعت کو فرمایا کہ تم نام کے مسلمان نہ بنو۔ پھر اس بات کی وضاحت کرتے ہوئے کہ لفاظی کہیں کام نہیں آتی، باتیں کام نہیں آتیں بلکہ عمل ہیں جو کام آتے ہیں۔ آپ فرماتے ہیں کہ : دو پس یاد رکھو کہ صرف لفاظی اور لسانی کام نہیں آسکتی جب تک کہ عمل نہ ہو۔ محض باتیں عند اللہ کچھ بھی وقعت نہیں رکھتیں۔ چنانچہ خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے كَبُرَ مَقْتًا عِنْدَ اللهِ أَن تَقُولُوا مَا لَا تَفْعَلُونَ “ ( الصف : 4 ) ( ملفوظات جلد اول صفحہ 76-77) کہ اللہ کے نزدیک اس بات کا دعویٰ کرنا جو تم کرتے نہیں بہت ناپسندیدہ بات ہے۔ تم اپنے نفسوں کو ایسے پاک کرو کہ قدسی قوت ان میں سرایت کرے پس ہمیں اس بات کے جائزے لینے کی ضرورت ہے کہ کیا ہمارے قول و فعل برابر ہیں۔ نَحْنُ أَنْصَارُ اللہ یعنی ہم اللہ کے انصار ہیں کا دعویٰ ہمارے عمل سے ثابت ہے یا نہیں ؟ ہم اسلام کو دنیا میں پھیلانے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ اس کو پورا کرنے کے لئے ہماری اپنی کوشش اور حالت کیا ہے ، یہ دیکھنے کی ضرورت ہے۔ پھر حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : اگر تم اسلام کی حمایت اور خدمت کرنا چاہتے ہو تو پہلے خود تقویٰ اور طہارت اختیار کرو جس سے خود تم خدا تعالیٰ کی پناہ کے حصن حصین میں آسکو اور پھر تم اس خدمت کا شرف اور استحقاق حاصل ہو۔“ فرمایا کہ: تمہیں اس خدمت کا شرف اور استحقاق حاصل ہو۔ اللہ تعالیٰ کی پناہ کے قلعہ میں آؤ۔ تم دیکھتے ہو کہ مسلمانوں کی بیرونی طاقت کیسی کمزور ہو گئی ہے۔ قومیں ان کو نفرت و حقارت کی نظر سے دیکھتی ہیں۔ اگر تمہاری اندرونی اور قلبی طاقت بھی کمزور اور پست ہو گئی تو بس