سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 240 of 539

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 240

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 208 صرف لفاظی اور لسانی کام نہیں آسکتی جب تک کہ عمل نہ ہو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : میں کھول کر کہتا ہوں کہ جب تک ہر بات پر اللہ تعالیٰ مقدم نہ ہو جاوے اور دل پر نظر ڈال کر وہ نہ دیکھ سکے کہ یہ میرا ہی ہے۔“ یعنی ایسا مقدم ہو جائے کہ اللہ تعالیٰ خود یہ ذکر کرے کہ یہ بندہ جو ہے یہ میرا ہی ہے اور میرے احکام کی پیروی کر رہا ہے۔ آپؐ نے فرمایا: اس وقت تک کوئی سچا مومن نہیں کہلا سکتا۔ ایسا آدمی تو آل ( عُرف عام) کے طور پر مومن یا مسلمان ہے۔ جیسے چوہڑے کو بھی مصلی یا مومن کہہ دیتے ہیں۔“ فرماتے ہیں: دو مسلمان وہی ہے جو اسْلَمَ وَجْهَهُ لِلَّهِ کا مصداق ہو گیا ہو۔ وجہ منہ کو کہتے ہیں مگر اس کا اطلاق ذات اور وجود پر بھی ہوتا ہے۔ پس جس نے ساری طاقتیں اللہ کے حضور رکھ دیں ہوں وہی سچا مسلمان کہلانے کا مستحق ہے۔“ آپ فرماتے ہیں کہ : دو دو مجھے یاد آیا کہ ایک مسلمان نے کسی یہودی کو دعوت اسلام کی کہ تو مسلمان ہو جا۔“ مسلمان جو تھا وہ فرمایا کہ : مسلمان خود فسق و فجور میں مبتلا تھا۔“ برائیوں میں مبتلا تھا۔ 66 ”یہودی نے اس فاسق مسلمان کو کہا کہ تو پہلے اپنے آپ کو دیکھ۔ مجھے جو تبلیغ کر رہا ہے اور تو اس بات پر مغرور نہ ہو کہ تو مسلمان کہلاتا ہے۔ خدا تعالی اسلام کا مفہوم چاہتا ہے نہ نام اور لفظ۔ یہودی نے اپنا قصہ بیان کیا ” اس مسلمان کو “کہ میں نے اپنے لڑکے کا نام خالد رکھا تھا مگر دوسرے دن مجھے اسے قبر میں گاڑنا پڑا۔“ دوسرے دن فوت ہو گیا۔ خالد کا مطلب ہمیشہ رہنے والا ہے۔