سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 239 of 539

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 239

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 207 ہمیں اپنے سامنے لاتے رہنا چاہیے۔ میں کہتا ہوں کہ کیا ہم میں سے اسی فیصد نے ان باتوں پر عمل کرنا شروع کر دیا ہے جو آپ کے سامنے بار بار لائی جاتی ہیں؟ اور اپنی زندگیوں کو اس کے مطابق ڈھال رہے ہیں جو مختلف مواقع پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی جن کی بار بار ہمیں نصیحت فرمائی اور جو ہمارے سامنے پیش فرمائے؟ یا اسی فی صد تو بڑی بات ہے، ساٹھ فی صد یا پچاس فی صد یا چالیس فی صد بھی اس پر عمل ہو رہا ہے جو ہم باتیں سنتے ہیں کہ ان پر عمل کریں۔ صرف اگر ہم باجماعت نماز کو ہی لے لیں تو وہاں بھی ہمارے معیار جو ہیں بہت پیچھے ہیں بلکہ عہدیداروں کے بھی معیار بہت پیچھے ہیں۔ کیا جو انصار اللہ کا نام ہے ہم حقیقت میں اس نام کا پاس رکھ رہے ہیں اگر ہم اپنا جائزہ لیں تو باوجود انصار اللہ کہلانے کے ہماری حالت قابل فکر ہے۔ آپ علیہ السلام تو ہر فردِ جماعت سے اعلیٰ معیار چاہتے ہیں کجا یہ کہ انصار اللہ کہلا کر اس طرف توجہ نہ دیں جو توجہ کا حق ہے۔ ہمارے نمونے ہی ہیں جو نوجوانوں کے لئے بھی صحیح سمت متعین کرنے والے ہوں گے۔ ہمارے نمونے ہی ہیں جو ہمارے بچوں کے لئے بھی رہ نما ہوں گے ۔ ہمارے نمونے ہی ہیں جو معاشرے میں تبدیلیاں لانے والے ہوں گے ۔ ہمیں اپنی عبادتوں کے معیاروں کو بھی دیکھنا ہو گا۔ ہمارے نمونے ہی ہیں جو معاشرے میں تبدیلیاں لانے والے ہوں گے اپنے اخلاق کے معیاروں کو بھی دیکھنا ہو گا اور پھر عہدیداروں کو، ہر سطح کے عہدیداروں کو ، ایک حلقے کے عہدیدار سے لے کے ، ریجن کے عہدیداروں سے لے کے مرکزی عہدیداروں تک اپنے جائزے لینے کی ضرورت ہے کہ کیا جو انصار اللہ کا نام ہے ہم حقیقت میں اس نام کا پاس رکھ رہے ہیں؟ حقیقت میں اس کے مطابق اپنی زندگیاں گزار رہے ہیں ؟ پس ہر ناصر خود اپنے یہ جائزے لے سکتا ہے۔ اب میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے کچھ اقتباسات پیش کرتا ہوں جو مزید ہمیں اس طرف توجہ دلاتے ہیں۔