سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 238
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 206 کیا ہم انصار کہلاتے ہوئے اپنی زندگیاں حضرت مسیح موعود کی خواہش کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کر رہے ہیں تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت کی تعداد میں ترقی کے ساتھ مجلس انصار اللہ کی بھی ترقی ہو رہی ہے اور اعدادو شمار کے مطابق مختلف پروگراموں میں اور مختلف activities میں مجلس انصار اللہ کے ممبران کی نمائندگی بھی بڑھ کر نظر آتی ہے لیکن ان تمام باتوں کے ساتھ انصار اللہ کو یا مجلس انصار اللہ کے ممبر ان کو جو حقیقی جائزہ اپنا لینا چاہیے وہ اس پر لینا چاہیے کہ کیا ہم انصار اللہ کہلاتے ہوئے اپنی زندگیاں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی خواہش کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کر رہے ہیں؟ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہم سے کیا چاہتے ہیں؟ جب تک ہم ایک فکر کے ساتھ اس بات کی تلاش نہیں کریں گے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تعلیم کی روشنی میں جو حقیقتاً قرآن کریم اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم ہے، اپنا لائحہ عمل ترتیب دے کر بار بار اس کا جائزہ نہیں لیں گے ہم اپنی زندگیاں اس تعلیم کی روشنی میں ڈھال نہیں سکتے ۔ بنیادی باتوں کو بار بار ہمیں اپنے سامنے لاتے رہنا چاہیے یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ بار بار ہمارے سامنے ایک ہی طرح کی بعض باتیں دہرائی جاتی ہیں۔ بعض دفعہ میں بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کے بعض حوالے بار بار پیش کرتا ہوں۔ اس سے شاید کوئی یہ خیال کرے بلکہ بعض یہ خیال کرتے بھی ہیں کہ کیا ان حوالوں سے باہر ہمیں نکلنا بھی ہے کہ نہیں ؟ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے تو ہر مضمون پر بے شمار لکھا۔ ہر قسم کے حوالے موجود ہیں۔ قرآن کریم کی ایک تفسیر ہے جو آپ کے ارشادات میں ہمیں ملتی ہے ، آپ کی کتب میں ملتی ہے لیکن بعض باتیں ایسی ہیں جو بنیادی ہیں اور جنہیں بار بار