سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 232
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 200 ان کو کہہ دے کہ اگر تم نیک چلن انسان نہ بن جاؤ اور اس کی یاد میں مشغول نہ رہو تو میرا خدا تمہاری زندگی کی پروا کیا رکھتا ہے اور سچ ہے کہ جب انسان غافلانہ زندگی بسر کرے اور اس کے دل پر خدا کی عظمت کا کوئی رعب نہ ہو اور بے قیدی اور دلیری کے ساتھ اس کے تمام اعمال ہوں تو ایسے انسان سے ایک بکری بہتر ہے جس کا دودھ پیا جاتا ہے اور گوشت کھایا جاتا ہے اور کھال بھی بہت سے کاموں میں آ جاتی ہے۔“ ( مجموعہ اشتہارات جلد 3 صفحہ 543) اللہ تعالیٰ کے فضلوں کا وارث بننے کے لئے ہمیں محنت کرنی پڑے گی 66 پھر وہ جانور انسانوں سے زیادہ بہتر بن جاتا ہے جو حلال جانور ہے۔ پس بہت غور اور فکر کا مقام ہے۔ ہمیں ہر وقت اس بارے میں سوچنا چاہیے۔ صرف نعرے لگانے سے اسلام فتح نہیں ہو گا۔ صرف نعرے لگانے سے ہماری اصلاح نہیں ہو گی۔ صرف نعرے لگانے سے ہماری اگلی نسلوں میں احمدیت اور اسلام کا حقیقی پیغام جاری نہیں رہے گا بلکہ اس کے لئے کوشش کرنی ہو گی۔ اللہ تعالیٰ کے فضلوں کا وارث بننے کے لئے ہمیں محنت کرنی پڑے گی۔ اللہ تعالیٰ ہمیں عبادتوں کا صحیح حق ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اس کی معرفت ہمیں پیدا ہو۔ نہ صرف اپنی اصلاح کرنے والے ہوں بلکہ اپنے بچوں کے لئے بھی نمونہ بن جائیں۔ آجکل دنیا جس تیزی سے خدا تعالیٰ کو بھلا رہی ہے اس کی اصلاح صرف اور صرف حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت ہی کر سکتی ہے جن کو اس کام کے لئے اللہ تعالیٰ نے اس زمانے میں بھیجا ہے۔ اگر پرانے احمدی اس اہمیت کو نہیں سمجھیں گے اور یہاں آکر شکر گزاری کے بجائے دنیا میں ڈوب جائیں گے ، اپنے بچوں کے لئے مثالیں قائم نہیں کریں گے تو اللہ تعالیٰ اور مخلصین حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو عطا فرمادے گا اور دنیا میں ہر جگہ عطا فرمارہا ہے۔ پھر وہی لوگ ہوں گے جو دین کا علم اور جھنڈا اٹھانے والے ہوں گے ۔ حقیقی انصار اللہ ہوں گے۔ پس اس بات کو ہمیں ہمیشہ سامنے رکھنا چاہیے کہ اگر ان لوگوں میں شامل ہونا ہے اور