سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 231 of 539

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 231

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 199 ہوئے تھے، نشہ میں پڑے ہوئے، جو اکھیلنے میں پڑے ہوئے تھے لیکن ان میں سے بعض لوگوں میں ایسا انقلاب پیدا ہوا کہ چار کلومیٹر دور ایک قریبی جماعت تھی کڈانڈا (Kidanda) اس میں جمعہ ادا کرنے کے لئے مسجد میں پہنچتے تھے۔ کیونکہ نئی جماعت تھی وہاں ان کی اپنی جگہ مسجد نہیں تھی تو سفر کر کے ہر جمعہ کو جمعہ ادا کرنے پہنچتے تھے۔ اور ان کی اسلام کے اندر دلچسپی اور ان کے اندر تبدیلی دیکھ کر پھر وہاں ایک عارضی مسجد بھی بنائی گئی اور اب مسجد بننے کے بعد باقاعدہ وہاں نماز با جماعت کا آغاز ہو گیا ہے۔ وہی لوگ جو نشوں میں ڈوبے ہوئے تھے ، وہی لوگ جو شرابی تھے ، وہی لوگ جو جوا کھیلنے میں ہر وقت مصروف رہتے تھے ، وہی لوگ جو دوسری برائیوں میں ملوث تھے اب وہ پانچ وقت مسجد میں نمازیں پڑھ رہے ہیں۔ تو یہ انقلاب ہے جو بیعت کرنے کے بعد ان لوگوں میں پیدا ہوا۔ اللہ تعالیٰ کی کوئی کسی سے رشتہ داری نہیں ہے اب دنیا میں نئی جماعتیں بن رہی ہیں اور نئی جماعتیں بن کر پھر مسجدیں بنا کر انہیں بھرنے کی کوشش کر رہی ہیں اور یہ ہمارے لئے ایک بڑا سوچنے کا مقام ہے۔ آپ کی اکثریت یہاں جو میرے سامنے بیٹھی ہے ، اس میں اکثر جو ہیں وہ اس وجہ سے یہاں ان مغربی ممالک میں آئے ہیں کہ ہماری عبادتوں پر پابندی تھی۔ ہمیں کھل کر عبادت کرنے کی اجازت نہیں تھی۔ ہمیں کھل کر اپنے آپ کو مسلمان کہنے کی اجازت نہیں تھی۔ ہمیں اسلامی احکامات پر عمل کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ ہمیں کھل کر اللہ تعالیٰ کا نام لینے کی اجازت نہیں ہے اور ان تنگیوں کی وجہ سے ہم یہاں آئے ہیں تو اس کے بعد تو کس قدر یہ حق بنتا ہے بلکہ فرض بنتا ہے ہمارا کہ ہم اللہ تعالیٰ کا حق ادا کرنے والے ہوں اور اس کے حکموں کے مطابق چلنے والے ہوں ، اپنی مسجدوں کو آباد کرنے والے ہوں۔ اگر ہم یہ نہیں کریں گے ، عبادت کا حق ادا نہیں کریں گے ، اللہ تعالیٰ کے حکموں پر نہیں چلیں گے اس کا پیچ عید نہیں بنیں گے تو پھر اللہ تعالی بھی بے نیاز ہے۔ یہ بات بھی ہمیں ہمیشہ یاد رکھنی چاہیے۔ اللہ تعالیٰ کی کوئی کسی سے رشتہ داری نہیں ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام ایک جگہ فرماتے ہیں کہ :