سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 230 of 539

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 230

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 198 یعنی کہ فرمایا اس کا مطلب یہی ہے کہ جب تم دعا کرو گے تو میں تمہاری پر واہ کروں گا اور جب اللہ تعالیٰ پر واہ کرتا ہے تو ان کو ایک خاص مقام مل جاتا ہے۔ اور فرمایا کہ : دو یہ اللہ تعالیٰ کی طرف توجہ کرنے والے اور اس کے آگے جھکنے والے اور دعاؤں کا حق ادا کرنے والے لوگ ہیں جو حقیقی سعادتمند لوگ ہیں۔ وہ تمام کسریں ان کے اندر سے نکل جاتی ہیں جو خدا سے دور ڈال دیتی ہیں۔ اور جب انسان اپنی اصلاح کر لیتا ہے اور خدا سے صلح کر لیتا ہے تو خدا اس کے عذاب کو بھی ٹلا دیتا ہے۔ خدا کو کوئی ضد تو نہیں۔ چنانچہ اس کے متعلق بھی صاف طور پر فرمایا ہے۔ مَا يَفْعَلُ اللهُ بِعَذَابِكُمْ إِن شَكَرْتُمْ (النساء 148:) یعنی خدا نے تم کو عذاب دے کر کیا کرنا ہے اگر تم دیندار ہو جاؤ۔“ (ملفوظات جلد 3 صفحہ 395) پاک تبدیلیاں پیدا کرنے والوں میں جو انقلاب پیدا ہوا اس کی اور ایک مثال دیتا ہوں میں۔ تنزانیہ مشرقی افریقہ کا ملک ہے وہاں کا ایک ریجن شیانگا ہے۔ اس کے معلم لکھتے ہیں کہ ایک نئے گاؤں اگیمبیا (Igembya) میں جماعت کا قیام عمل میں آیا۔ اس گاؤں میں اکثریت الثریت لامذہب کی ہے جہاں جماعت کا قیام عمل میں آیا وہ لوگ مذہب کو مانتے ہی نہیں۔ ان میں سے اکثر لوگوں کا مشغلہ شراب نوشی ہے۔ ہر وقت شراب میں دھت ہیں ، جو اکھیلتے ہیں اور دوسری برائیاں بھی ان میں عام ہیں۔ کوئی برائی نہیں جو ان میں نہ ہو۔ کہتے ہیں وہاں جب تبلیغ کے لئے ہم گئے اور گاؤں کی حالت کا اندازہ لگایا تو ہمارا خیال تھا کہ شاید ہمیں کوئی خاطر خواہ کامیابی نہیں ہو گی۔ یہ دنیا میں دھت لوگ ہیں۔ شراب میں ، نشہ میں ڈوبے ہوئے ، جوا کھیلنے والے سب برائیوں میں ملوث ، انہوں نے ہماری دین کی اور مذہب کی اور خدا کی بات کیا سننی ہے۔ ہم نے سوچ لیا تھا کہ شاید کوئی کامیابی نہیں ہو گی بلکہ وہ ہماری بات سننا بھی گوارہ نہ کریں۔ کامیابی تو دور کی بات ہے شاید ہماری بات سننا بھی گوارہ نہ کریں۔ کہتے ہیں بہر حال جب ہم نے تبلیغ کی تو انہی میں سے لوگوں نے نہ صرف اسلام احمدیت کا پیغام سنا بلکہ کافی لوگوں نے اسی وقت بیعت کر کے اسلام اور احمدیت کو قبول کر لیا۔ پھر بیعت کرنے والوں میں ایسی تبدیلی رونما ہوئی کہ پہلے تو ان کا اور کوئی شغل ہی نہ تھا دنیا داری میں پڑے