سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 229
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 197 بچوں کی بھی اصلاح ہو گئی۔ پس ہم میں سے ہر ایک کا نمونہ جو ہے وہ اپنے گھر والوں کی اصلاح کے لئے ضروری ہے اور یہ نمونہ دکھانا انصار اللہ کا کام ہے اور یہی حقیقی انصار اللہ ہونے کا مقصد ہے۔ جب تم دعا کرو گے تو میں تمہاری پر واہ کروں گا دعاؤں اور عبادتوں کی طرف توجہ دلاتے ہوئے ایک موقع پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : انسانوں میں سے بھی جو سب سے زیادہ قابل قدر ہے اسے اللہ تعالیٰ محفوظ رکھتا ہے اور یہ وہ لوگ ہوتے ہیں۔“ 66 وو کون قابل قدر ہیں ؟ ” وہ لوگ ہوتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ اپنا سچا تعلق رکھتے اور اپنے اندرونہ نہ کو صاف رکھتے ہیں۔“ اندر باہر ایک ہیں۔ اپنے اندرونے کو بھی صاف رکھتے ہیں۔ خدا تعالیٰ سے ایک حقیقی تعلق ہے۔ صرف منہ سے نہیں کہتے کہ ہمیں اللہ تعالیٰ سے پیار اور محبت ہے ، ہم اللہ تعالیٰ کے عبد ہیں بلکہ دل بھی ان کی اس بات کی گواہی دے رہے ہوتے ہیں اور ان کا ہر عمل اس بات کی گواہی دے رہا ہوتا ہے اور فرمایا: اور نوع انسان کے ساتھ خیر اور ہمدردی سے پیش آتے ہیں۔“ ان کی ایک یہ بھی نشانی ہے کہ ایک دوسرے کے ساتھ ہمدردی اور خیر سے پیش آتے ہیں۔ ان کے لئے بھلائی دکھاتے ہیں۔ اور خدا کے سچے فرمانبردار ہیں۔ چنانچہ قرآن شریف سے بھی ایسا ہی معلوم ہوتا ہے قُلْ مَا يَعْبَؤُا بِكُمْ رَبِّي لَوْلَا دُعَاؤُكُمْ (الفرقان 78:) یعنی تو کہہ دے کہ اگر تمہاری دعانہ ہوتی تو میر ارب تمہاری کوئی پرواہ نہ کرتا۔“ فرمایا کہ: اس کے مفہوم مخالف سے صاف پتہ لگتا ہے کہ وہ دوسروں کی پر واہ کرتا ہے اور وہ وہی لوگ ہوتے ہیں جو سعادتمند ہوتے ہیں۔“