سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 228
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم دو 196 یہ دین کو درست کرتی ہے ، اخلاق کو درست کرتی ہے ، دنیا کو درست کرتی ہے۔ نماز کا مزا دنیا کے ہر ایک مزے پر غالب ہے۔ لذات جسمانی کے لئے تم لوگ ہزاروں روپیہ خرچ کرتے ہو پھر ان کا نتیجہ بیماریاں ہوتی ہیں اور اگر نمازیں پڑھنے والا ہو تو یہ مفت کا بہشت ہے جو انسان کو ملتا ہے۔“ فرماتے ہیں: ” قرآن شریف میں دو جنتوں کا ذکر ہے۔ ایک ان میں سے دن دنیا کی جنت ہے اور وہ دنیا کی جنت کیا ہے؟“ فرمایا: ” اور وہ نماز کی لذت ہے۔“ (ماخوذ از ملفوظات جلد 6 صفحہ 370-371) نماز میں لذت آئے گی تو سمجھو تمہیں دنیا کی جنت مل گئی۔ کس طرح نمازیں پڑھنے والوں میں یہ انقلاب پیدا ہوتا ہے۔ کس طرح ان کو یہ سرور حاصل ہوا اور دنیا کی جنت حاصل کرنے والے بنتے ہیں۔ جماعت میں بہت سارے ایسے لوگ ہیں بلکہ ان کو دیکھ کر ان کے بچوں کی بھی حالت بدل گئی ہے۔ وہ بھی اس دنیاوی جنت کو حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ چنانچہ ایک مثال میں آپ کے سامنے پیش کر دیتا ہوں۔ نمونہ دکھانا انصار اللہ کا کام ہے بینن کی ایک جماعت کے لوکل مشنری نے لکھا کہ ایک دوست ہیں لافیا عبد المومن صاحب۔ انہوں نے بتایا کہ میں ایک پیدائشی مسلمان ہوں لیکن نماز وغیرہ کی طرف توجہ نہیں تھی اور اسی وجہ سے وہ کہتے ہیں کہ میرے بچے بھی خصوصاً میری چھوٹی بیٹی تو بالکل اسلام سے دور تھی۔ میرا اپنا ہی نمونہ ٹھیک نہیں تھا اس لئے میں جو بھی نصیحت کرتا وہ نصیحت اثر نہیں کرتی تھی۔ لیکن جب میں نے احمدیت قبول کی تو میرے اندر بھی تبدیلی آئی اور اب خدا کا شکر ہے کہ تقبل کی تو اندر آئی اور کا شکر ہے میری بیٹی نہ صرف اسلام سے محبت رکھتی ہے بلکہ با قاعدہ جماعتی پروگراموں میں شمولیت کرتی ہے اور ہم سب کی نمازوں کی طرف بھی پہلے سے بڑھ کر توجہ پیدا ہو گئی ہے بلکہ حقیقی توجہ پیدا ہو گئی ہے۔ تو دیکھیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ماننے کے بعد نہ صرف اپنی اصلاح ہوئی بلکہ