سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 227 of 539

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 227

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 195 مل کر تعارف اور وحدت پیدا کریں۔ آخر کبھی نہ کبھی تو سب ایک ہو جاویں گے۔ پھر سال کے بعد عیدین میں یہ تجویز کی کہ دیہات اور شہر کے لوگ مل کر نماز ادا کریں تاکہ تعارف اور انس بڑھ کر وحدت جمہوری پیدا ہو۔ پھر اس طرح تمام دنیا کے اجتماع کے لئے ایک دن عمر بھر میں مقرر کر دیا کہ مکہ کے میدان میں سب جمع ہوں۔ غرضکہ اس طرح سے اللہ تعالیٰ نے چاہا ہے کہ آپس میں الفت اور انس ترقی پکڑے۔ پکڑے ۔ “ ( ملفوظات جلد 7 صفحہ 129-130) 66 اب اللہ تعالیٰ کی خاطر آپس کا یہ انس اور محبت جو اللہ تعالیٰ پیدا کرنا چاہتا ہے ، امّت مسلمہ کو ایک واحد قوم بنانا چاہتا ہے، ایک حقیقی مومن میں پیدا کرنا چاہتا ہے اس کے لئے اس سوچ کے ساتھ انسان کو اپنی نمازوں کی طرف بھی توجہ دینی چاہیے ، پانچ وقت نمازوں کے لئے بھی اور جمعہ کے لئے بھی اور عیدین کے لئے بھی مسجد میں آنا چاہیے۔ پھر ہمیں اس زمانے میں دینی مجالس منعقد کرنے کیلئے اللہ تعالیٰ نے جلسوں اور اجتماعوں کے انعقاد کے بھی انتظام فرما دیئے ہوئے ہیں۔ یہاں ہم اکٹھے ہوتے ہیں اس لئے کہ دینی باتیں بھی سنیں، اکٹھے ہو کر نمازیں بھی پڑھیں ، محبت اور انس پیدا ہو۔ تو یہ اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ سے ایک زائد چیز ہم میں پیدا فرمادی ہے جس کے لئے اللہ تعالیٰ کا ہمیں شکر گزار ہونا چاہیے۔ اور اس شکر گزاری کرنے کا حق یہ ہے، شکر گزاری کرنے کا حقیقی طریق یہی ہے کہ پھر اپنے دلوں میں ایسی محبت پیدا کریں اور یہ عہد کریں کہ ہم اللہ تعالیٰ کا صحیح عبد بننے کی کوشش کریں گے۔ اللہ تعالیٰ کا بھی حق ادا کریں گے اور بندوں کے بھی حق ادا کریں گے۔ نماز کا مزا دنیا کے ہر ایک مزے پر غالب ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: نماز خدا کا حق ہے اسے خوب ادا کرو اور خدا کے دشمن سے مداہنہ کی زندگی نہ برتو ۔ وفا اور صدق کا خیال رکھو۔ اگر سارا گھر غارت ہو تا ہو تو ہونے دو مگر نماز کو ترک مت کرو۔“ پھر آپ نماز کے بارے میں فرماتے ہیں کہ :