سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 226
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 194 اس لئے ہے کہ جس کے پاس زیادہ نور ہے وہ دوسرے کمزور میں سرایت کر کے اسے قوت دیوے حتی کہ حج بھی اس لئے ہے۔ اس وحدت جمہوری کو پیدا کرنے اور قائم رکھنے کی ابتدا اس طرح سے اللہ تعالیٰ نے کی ہے کہ اوّل یہ حکم دیا کہ ہر ایک محلہ والے پانچ وقت نمازوں کو با جماعت محلہ کی مسجد میں ادا کریں تاکہ اخلاق کا تبادلہ آپس میں ہو۔ اور انوار مل ملا کر کمزوری کو دور کر دیں۔“ مسجد میں جانا ہے، پانچ نمازیں پڑھنی ہیں تو وہ بھی اس لئے جانا چاہیے ، اس نیت سے جانا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ سے دعا مانگتی ہے اور ہم نے ایک بننے کی کوشش کرنی ہے۔ یہ نہیں کہ مسجدوں میں بھی جائیں اور دل بھی پھٹے ہوں اور لڑائیاں بھی ہو رہی ہوں۔ فرمایا کہ : ہورہ دو مل ملا کر کمزوری کو دور کر دیں اور آپس میں تعارف ہو کر انس پیدا ہو جاوے۔ تعارف بہت عمدہ شے ہے کیونکہ اس سے انس بڑھتا ہے جو کہ وحدت کی بنیاد ہے۔ حتی کہ تعارف والا دشمن ایک نا آشنا دوست سے بہت اچھا ہو تا ہے کیونکہ جب غیر ملک میں ملاقات ہو تو تعارف کی وجہ سے دلوں میں انس پیدا ہو جاتا ہے۔ وجہ اس کی یہ ہوتی ہے کہ کینہ والی زمین سے الگ ہونے کے باعث بغض جو کہ عارضی شے ہوتا ہے وہ تو دور ہو جاتا ہے اور صرف تعارف باقی رہ جاتا ہے۔“ 66 دشمن بھی بعض دفعہ دوسرے ملکوں میں جاکر ایک ہو جاتے ہیں۔ آپس میں اگر کسی وجہ سے اختلافات بھی ہوں تو ایک ملک کے اگر دوسرے ملک میں جاتے ہیں، جب اپنے قوم کے لوگ نہیں ملتے تو پھر ایک دوسرے پر ہی انحصار کرنا ہوتا ہے اور اس میں پھر دوستی اور تعلق پیدا ہو جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے چاہا ہے کہ آپس میں الفت اور انس ترقی پکڑے فرمایا کہ: پھر دوسرا حکم یہ ہے کہ جمعہ یہ ہے کہ جمعہ کے دن جامع مسجد میں جمع ہوں کیونکہ ایک شہر کے لوگوں کا ہر روز جمع ہونا تو مشکل ہے اس لئے یہ تجویز کی کہ شہر کے سب لوگ ہفتہ میں ایک دفعہ