سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 225 of 539

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 225

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 193 ہوں۔ جب یہ پتہ ہو گا تبھی زبان کے الفاظ کے ساتھ دل کی کیفیات بھی بدلیں گی ، دماغ بھی پوری طرح متوجہ ہو گا، اضطراب پیدا ہو گا۔ فرمایا: ”مگر اس سے یہ ہر گز نہیں سمجھنا چاہیے کہ نماز کو اپنی زبان ہی میں پڑھو۔“ یہ بھی مطلب نہیں کہ نماز کی وہ ساری باتیں جو عربی کے الفاظ ہیں یا مسنون دعائیں ہیں ان کو بھی اپنے الفاظ میں پڑھو۔ نہیں میرا یہ مطلب ہے کہ مسنون ادعیہ اور اذکار کے بعد اپنی زبان میں بھی دعا کیا کرو۔ ور نہ نماز کے ان الفاظ میں خدا نے ایک برکت رکھی ہوئی ہے۔ نماز دعاہی کا نام ہے اس لئے اس میں دعا کرو کہ وہ تم کو دنیا اور آخرت کی آفتوں سے بچاوے اور خاتمہ بالخیر ہو۔ اپنے بیوی بچوں کے لئے بھی دعا کرو۔ نیک انسان بنو اور ہر قسم کی بدی سے بچتے رہو ۔ “ ( ملفوظات جلد 6 صفحہ 146) با جماعت عبادتوں کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ عبادتوں کے ساتھ اس مذہب کے ماننے والے مسلمان ایک امت واحدہ بن جائیں اور باجماعت عبادتیں اور دعائیں جب اکٹھی ہو کر اللہ تعالیٰ کے حضور پہنچتی ہیں تو پھر ان کی قبولیت کا بھی ایک اور درجہ ہوتا ہے۔ اور پھر وہ انقلاب پیدا کرتی ہیں۔ اور اگر ہم نے انقلاب لانا ہے تو اس طرف ہمیں توجہ کرنی ہو گی۔ اللہ تعالیٰ کا یہ منشا ہے کہ تمام انسانوں کو ایک نفس واحد کی طرح بنادے حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ : اللہ تعالیٰ کا یہ منشا ہے کہ تمام انسانوں کو ایک نفس واحد کی طرح بنادے ، اس کا نام وحدت جمہوری ہے جس سے بہت سے انسان بحالت مجموعی ایک انسان کے حکم میں سمجھا جاتا ہے۔“ وحدتِ جمہوری ہو گی، ایک قوم بنے گی تو بہت سے انسان اکٹھے ہو کر ایک انسان کے حکم میں آجائیں گے، ایک روح سمجھی جائیگی، ایک جسم سمجھا جائے گا۔ فرمایا: مذہب سے بھی یہی منشا ہوتا ہے کہ تسبیح کے دانوں کی طرح وحدت جمہوری کے ایک دھاگہ میں سب پروئے جائیں۔ یہ نمازیں باجماعت جو کہ ادا کی جاتی ہیں وہ بھی اسی وحدت کے لئے ہیں تاکہ گل نمازیوں کا ایک وجود شمار کیا جاوے۔ اور آپس میں مل کر کھڑے ہونے کا حکم