سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 224
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 192 ہو کہ اس حالت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے حضور گر پڑو۔ فرمایا کہ : ” جہاں تک طاقت ہے وہاں تک رقت کے پیدا کرنے کی کوشش کرے اور تضرع سے دعا مانگے کہ شوخی اور گناہ جو اندر نفس میں ہیں وہ دور ہوں۔“ یہ بھی دعا مانگو کہ اللہ تعالیٰ میرے اندر اتنی کمزوریاں، اتنی شوخیاں ہیں، نفس کے گناہ ہیں ان کو بھی دور فرما اور اپنی معرفت عطا فرما۔ مجھے حقیقی عبد بنا۔ فرمایا کہ : اسی قسم کی نماز بابرکت ہوتی ہے۔ اور اگر وہ اس پر استقامت اختیار کرے گا تو دیکھے گا کہ رات کو یا دن کو ایک نور اس کے قلب پر گرا ہے اور نفس اتارہ کی شوخی کم ہو گئی ہے۔ جیسے اژدھا میں ایک سم قاتل ہے۔ اسی طرح نفس امارہ میں بھی سم قاتل ہوتا ہے اور جس نے اسے پیدا کیا اسی کے پاس اس کا علاج ہے۔“ (ملفوظات جلد 7 صفحہ 123) پس نفس تو بار بار برائی کی طرف بلاتا ہے، برائی پر مجبور کرتا ہے اس لئے اس کو قتل کرنے کے لئے ، اس کو مارنے کے لئے جس طرح سانپ اور اژدھا کو مارنا ہے اللہ تعالیٰ کو ہی تلاش کرنا پڑے گا۔ پس اس پہلو کو ہمیں ہر وقت اپنے سامنے رکھنا چاہیے۔ نماز کا مزا نہیں آتا جب تک حضور نہ ہو پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: پانچ وقت اپنی نمازوں میں دعا کرو۔ اپنی زبان میں بھی دعا کرنی منع نہیں ہے۔ نماز کا مزا نہیں آتا جب تک حضور نہ ہو۔“ جب تک کہ پوری طرح توجہ نہ ہو۔ اور حضور قلب نہیں ہو تا جب تک عاجزی نہ ہو۔“ 66 اپنے اندر عاجزی پیدا کر و تبھی دل کی پوری توجہ بھی پیدا ہو گی۔ عاجزی جب پیدا ہوتی ہے جو یہ سمجھ آجائے کہ کیا پڑھتا ہے اس لئے اپنی زبان میں اپنے مطالب پیش کرنے کے لئے جوش اور اضطراب پیدا ہو سکتا ہے۔“ عاجزی تبھی پیدا ہو گی جب انسان الفاظ جو دہرا رہا ہے پتہ بھی تو ہو کہ میں کہہ کیا رہا