سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 223
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 191 ایک طرف تو انسان دعائیں مانگ رہا ہو کہ اللہ تعالیٰ مجھے اپنی معرفت عطا کر اور اس میں میں ترقی کروں اور تیرا صحیح عبد بنوں۔ دوسری طرف مجلسیں ایسی ہیں جن میں گناہ کی تحریک ہو رہی ہے۔ ٹی وی پر بیٹھے ہوئے ہیں، غلط قسم کی فلمیں دیکھ رہے ہیں۔ عورتوں کی طرف سے ، بچوں کی طرف سے انصار اللہ کی عمر کے لوگوں کی رپورٹیں مجھے آتی ہیں کہ غلط پروگرام دیکھ رہے ہیں یا بعض مجالس میں بیٹھے ہیں، گپیں مار رہے ہیں، اس قسم کے اعتراضات کر رہے ہیں۔ بعض لوگ نظام پر اعتراض کر رہے ہیں۔ ایک دوسرے کی چغلیاں کر رہے ہیں۔ تو یہ ساری مجالس جو ہیں اگر ان میں بیٹھنا نہیں چھوڑو گے تو معرفت بھی حاصل نہیں ہو گی۔ فرماتے ہیں کہ : " مجلسیں جن میں شامل ہونے سے گناہ کی تحریک ہوتی ہے ان کو ترک کرو اور ساتھ ہی ساتھ دعا بھی کرتے رہو۔“ 66 یہ ترک بھی کرو اور دعا بھی کرتے رہو کہ معرفت اللہ تعالیٰ عطا فرمائے۔ اور خوب جان لو کہ ان آفات سے جو قضاء و قدر کی طرف سے انسان کے ساتھ پیدا ہوتی ہیں جب تک خدا تعالیٰ کی مد د ساتھ نہ ہو ہر گز رہائی نہیں ہوتی۔“ فرمایا: ” نماز جو کہ پانچ وقت ادا کی جاتی ہے۔ 66 ایک دو تین نمازیں نہیں، پانچ وقت نماز ادا کی جاتی ہے۔ ”اس میں بھی یہی اشارہ ہے کہ اگر وہ نفسانی جذبات اور خیالات سے اسے محفوظ نہ رکھے گا تب تک وہ سچی نماز ہر گز نہ ہو گی۔“ نماز میں بھی، پانچوں وقت نماز میں کوشش کرنی ہے کہ نفسانی جذبات اور خیالات سے اپنے آپ کو محفوظ رکھنا ہے تا کہ حقیقی نماز ہو۔ فرماتے ہیں کہ : نماز کے معنے ٹکریں مار لینے اور رسم اور عادت کے طور پر ادا کرنے کے ہرگز نہیں۔ نماز وہ شے ہے جسے دل بھی محسوس کرے کہ روح پگھل کر خوفناک حالت میں آستانہ الوہیت پر گر پڑے۔“ ایسے دل میں احساس پیدا ہو ، سوز پیدا ہو ، گدازش پید اہو ، جذبات پیدا ہوں، رقت پیدا