سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 222 of 539

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 222

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 190 تم لوگ دعا کے ذریعے اللہ تعالیٰ سے معرفت طلب کرو پس اللہ تعالیٰ کو ہماری ضرورت نہیں۔ جب اللہ تعالیٰ نے کہا تو اس لئے کہا کہ ہم پر اس نے احسان کیا ہے کہ ہم اس کے قریب ہوں گے تو دین بھی پائیں گے اور دنیا بھی پائیں گے ۔ بہت سے نمازیوں کی ظاہری حالت کا نقشہ کھینچتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک موقع پر فرمایا کہ: بہت ہیں کہ زبان سے تو خدا تعالیٰ کا اقرار کرتے ہیں لیکن اگر ٹول کر دیکھو تو معلوم ہو گا کہ ان کے اندر دہریت ہے۔ کیونکہ دنیا کے کاموں میں جب مصروف ہوتے ہیں تو خدا تعالیٰ کے قہر اور اس کی عظمت کو بالکل بھول جاتے ہیں۔ اس لئے یہ بات بہت ضروری ہے کہ تم لوگ دعا کے ذریعہ اللہ تعالیٰ سے معرفت طلب کرو۔“ اللہ تعالیٰ کی معرفت حاصل کرنی ہے تو وہ بھی دعا کے ذریعہ سے مانگو۔ بغیر اس کے یقین کامل ہر گز حاصل نہیں ہو سکتا۔ وہ اس وقت حاصل ہو گا جبکہ یہ علم ہو کہ اللہ تعالیٰ سے قطع تعلق کرنے میں ایک موت ہے۔“ یقین کامل اس وقت حاصل ہو گا، معرفت اس وقت حاصل ہو گی جب یہ خوف ہو کہ کہیں اللہ تعالیٰ سے جب میں نے تعلق کاٹا، اس کے حق ادا نہ کئے ، اس کے حکموں پر نہ چلا، اس کا صحیح عبد بننے کی کوشش نہ کی تو میری موت ہے۔ یہی حقیقی موت ہے۔ جب یہ احساس پیدا ہو گا تب پھر معرفت کے لئے پر سوز دعائیں بھی ہوں گی۔ گناہ سے بچنے کے لئے جہاں دعا کرو وہاں ساتھ ہی تدابیر کے سلسلہ کو ہاتھ سے نہ چھوڑو فرماتے ہیں: ”گناہ سے بچنے کے لئے جہاں دعا کرو وہاں ساتھ ہی تدابیر کے سلسلہ کو ہاتھ سے نہ چھوڑو۔ “صرف دعا سے گناہ سے نہیں بچا جاتا، تدبیریں بھی ضروری ہیں۔ ”اور تمام محفلیں اور مجلسیں جن میں شامل ہونے سے گناہ کی تحریک ہوتی ہے ان کو ترک کرو۔“