سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 221 of 539

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 221

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 189 سرور اور لذت نہیں ملتی تھی۔ وہ گدازش پیدا نہیں ہوتی تھی، وہ سوزش پیدا نہیں ہوتی تھی لیکن جب سے میں احمدی ہوا ہوں بالکل کایا پلٹ گئی ہے۔ نمازوں میں سرور اور لذت پاتا ہوں۔ اب میری نمازوں کا مزہ ہی اور ہو گیا ہے۔ نماز ہزاروں خطاؤں کو دور کر دیتی ہے پس جب اللہ تعالیٰ کی معرفت انسان کو ملتی ہے اور دعاؤں میں درد پیدا ہوتا ہے تو پھر سرور بھی آتا ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس سوزش اور گدازش والی نمازوں کی حالت کو پیدا کرنے کے بارے میں فرماتے ہیں کہ : جس طرح بہت دھوپ کے ساتھ آسمان پر بادل جمع ہو جاتے ہیں اور بارش کا وقت آجاتا ہے ایسا ہی انسان کی دعائیں ایک حرارت ایمانی پیدا کرتی ہیں اور پھر کام بن جاتا ہے۔“ فرمایا: ”نماز وہ ہے جس میں سوزش اور گدازش کے ساتھ اور آداب کے ساتھ انسان خدا تعالیٰ کے حضور میں کھڑا ہوتا ہے۔“ عاجزی ہوتی ہے، ایک حرارت پیدا ہوتی ہے۔ ایک درد پیدا ہوتا ہے اور پھر جو نماز کے آداب ہیں یا عاجزی کی انتہاء اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہو رہے ہیں۔ جب خدا تعالیٰ کے حضور کھڑا ہوتا ہے تو پھر ایک حقیقی حالت نماز کی پیدا ہوتی ہے۔ فرمایا کہ : ” جب انسان بندہ ہو کر لا پرواہی کرتا ہے تو خدا کی ذات بھی غنی ہے۔ ہر ایک امت اس وقت تک قائم رہتی ہے جب تک اس میں توجہ الی اللہ قائم رہتی ہے۔ ایمان کی جڑ بھی نماز ہے۔“ 66 فرمایا: ”ایمان کی جڑ بھی نماز ہے۔ بعض بیوقوف کہتے ہیں کہ خدا کو ہماری نمازوں کی کیا حاجت ہے ؟“ فرمایا کہ: اے نادانو ! خدا کو حاجت نہیں مگر تم کو حاجت ہے کہ خدا تعالیٰ تمہاری طرف توجہ کرے۔“ فرماتے ہیں: ”خدا کی توجہ سے بگڑے ہوئے کام سب درست ہو جاتے ہیں۔ نماز ہزاروں خطاؤں کو دور کر دیتی ہے اور ذریعہ حصول قرب الہی ہے۔“ ( ملفوظات جلد 7 صفحہ 378)