سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 220 of 539

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 220

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 188 مزید اس کے بارے میں آپ فرماتے ہیں کہ : صلوٰۃ کا لفظ پر سوز معنے پر دلالت کرتا ہے جیسے آگ سے سوزش پیدا ہوتی ہے۔“ آگ سے سوزش پیدا ہوتی ہے ، گرم آگ پہ ہاتھ رکھے یا اس کی گرمی بھی محسوس ہو جائے، قریب لے جاؤ ہاتھ کو یا کوئی بھی جسم کا حصہ تو وہاں سوزش پیدا ہو جائے گی تو فرمایا کہ صلوۃ بھی یہی چیز ہے کہ اس سے سوزش پیدا ہونی چاہیے۔ فرمایا کہ : ویسی ہی گدازش دعا میں پیدا ہونی چاہیے۔ جب ایسی حالت کو پہنچ جائے جیسے موت کی حالت ہوتی ہے تب اس کا نام صلوۃ ہوتا ہے۔“ (ملفوظات جلد 7 صفحہ 367-368) اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت میں بہت سے ایسے ہیں جن کی نمازوں میں گدازش ہے پس ایسی نمازیں ہیں جن کی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام ہم سے توقع رکھتے ہیں۔ اور جب ایسی گدازش والی اور پر سوز نمازیں ہوں گی تو پھر یہ شکوہ نہیں ہو گا کہ اللہ تعالیٰ ہماری سنتا نہیں ہے ہم نے بہت دعائیں کیں۔ فلاں مقصد کے لئے دعائیں کیں۔ مقصد صرف دنیاوی ہے تو پھر وہ حالت پیدا نہیں ہو گی جس حالت میں اللہ تعالیٰ بندے کی سنتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت میں بہت سے ایسے ہیں جن کی نمازوں میں گدازش ہے۔ ان کی نمازوں سے ان میں سوزش پیدا ہوتی ہے۔ ان کو نمازوں میں سرور اور مزہ آتا ہے اور انہیں کوئی شکوہ نہیں ہوتا کہ اللہ تعالیٰ ہماری سنتا نہیں۔ وہ اللہ تعالیٰ کی رضا پر راضی ہوتے ہیں۔ کبھی ان کا سرور کم نہیں ہوتا۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بیعت میں آنے کے بعد عبادتوں میں سرور آنے اور مزہ آنے کا ذکر تو بہت سے نئے آنے والے بھی اب کرنے لگ گئے ہیں جن کو بیعت میں آئے کچھ عرصہ ہی ہوا ہے۔ چنانچہ بینن سے ہی وہاں کے لوکل مشنری لکھتے ہیں کہ میرے ریجن کے ایک نو مبائع احمدی ادریس صاحب ہیں۔ احمدیت قبول کرنے سے پہلے مسلمان ہی تھے۔ اور لیس صاحب نے پانچ ماہ قبل احمدیت قبول کی۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ احمدیت قبول کرنے سے پہلے میں مسلمان تھا۔ نمازیں بھی پڑھتا تھا بلکہ تہجد بھی پڑھا کرتا تھا لیکن نمازوں میں مجھے