سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 219 of 539

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 219

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 187 ادب، انکسار ، تواضع اور نہایت محویت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے حضور میں کھڑا ہو کر اس کی رضا کا طالب ہوتا ہے۔ تب وہ صلوٰۃ میں ہوتا ہے۔“ فرمایا کہ: اصل حقیقت دعا کی وہ ہے جس کے ذریعہ سے خدا اور انسان کے درمیان رابطہ تعلق بڑھے۔ “ خدا اور انسان کے درمیان تعلق اور رابطہ بڑھے یہ اصل صلوٰۃ ہے، یہ دعا ہے۔ فرمایا کہ : 66 یہی دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کا ذریعہ ہوتی ہے اور انسان کو نامعقول باتوں سے ہٹاتی ہے۔“ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ نماز جو ہے وہ اس کو فحشاء سے اور منکر سے ہٹاتی ہے۔ تو تبھی ہٹائے گی جب یہ سوچ ہو گی ، اس سوچ کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے حضور کھڑا ہو گا۔ یہ ہوگی، اور خدا سے خدا کو مانگو پھر دنیاوی ضروریات کے لئے بھی دعا کرو فرمایا کہ: اصل بات یہی ہے کہ انسان رضائے الہی کو حاصل کرے۔ اس کے بعد روا ہے کہ انسان اپنی دنیوی ضروریات کے واسطے بھی دعا کرے۔“ پہلے رضائے الہی، اللہ تعالیٰ کی رضا کو حاصل کرو۔ نیکیاں کرنے کی توفیق مانگو۔ اُس سے اُس کے حکموں پر چلنے کی توفیق مانگو۔ اُس سے ، خدا سے خدا کو مانگو پھر دنیاوی ضروریات کے لئے بھی دعا کرو کہ اللہ تعالیٰ ان میں بھی برکت ڈالے تو دنیاوی کاموں میں برکت پڑے گی اور مقصد بھی پورا ہو جائے گا۔ فرمایا کہ : دو ” یہ اس واسطے روا رکھا گیا ہے کہ دنیوی مشکلات بعض دفعہ دینی معاملات میں حارج ہو جاتے ہیں۔ بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ دنیاوی مشکلات میں پڑتے ہیں تو دینی معاملات میں بھی خارج ہو جاتے ہیں کہ ایمان کمزور ہوتا ہے۔ فرمایا: خاص کر خامی اور کج پینے کے زمانے میں یہ امور ٹھو کر کا موجب بن جاتے ہیں۔ صلوٰۃ کا لفظ پر سوز معنے پر دلالت کرتا ہے۔“