سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 218 of 539

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 218

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 186 گا تو فرمایا کہ اس وجہ سے پھر انسان ایک قابل قدر شے ہو جائے گا۔ اللہ تعالیٰ کی نظر میں بھی قابل قدر ہو جائے گا اور دنیا میں بھی وہ قابل قدر ہو گا۔ اگر یہ درد اس کے دل میں نہیں ہے اور ہے اور صرف دنیا اور اس کے مافیہا کا ہی درد ہے تو آخر تھوڑی سی مہلت پا کر وہ ہلاک ہو جاوے ہو جاوے گا۔“ (ملفوظات جلد 7 صفحہ 289) پس اس مقصد کو حاصل کرنے کی کوشش ہمیں کرنی چاہیے نہ کہ دنیا داروں کی طرح زندگی گزاریں جو خدا تعالیٰ کو بھول جاتے ہیں۔ نماز ہی صحیح عبد بننے کی طرف ہمیں لے جاتی ہے اس مقصد کو حاصل کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے جو عبادت کا طریق سکھایا ہے وہ کیا ہے ؟ اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے کس طرح اس بارے میں ہمیں یہ طریق اختیار کرنے کے بارے میں فرمایا ہے اور کیا فرمایا ہے ؟ آپؐ کے بعض ارشادات میں پیش کرتا ہوں جس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ صحیح عبد بننے کا طریق کیا ہے اور عبد بننے کے لئے کیا چیز ضروری ہے۔ اور جو ہم دیکھتے ہیں تو اس سے یہی پتہ چلتا ہے کہ نماز ہی صحیح عبد بننے کی طرف ہمیں لے جاتی ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : ایک مرتبہ میں نے خیال کیا کہ صلوۃ میں اور دعا میں کیا فرق ہے۔ حدیث شریف میں آیا ہے کہ الصلوةُ هِيَ الدُّعَاءُ - الصَّلوةُ مُخُ الْعِبَادَةِ یعنی نماز ہی دعا ہے نماز عبادت کا مغز ہے۔“ 66 فرماتے ہیں: ” جب انسان کی دعا محض دنیوی امور کے لئے ہو تو اس کا نام صلوۃ نہیں۔“ نماز پڑھ رہے ہیں اور صرف اس لئے پڑھ رہے ہیں کہ دنیا ہی مانگتی ہے۔ سارا دن کمائی بھی دنیا کے لئے کرتے رہے، کوشش بھی دنیا کے لئے کرتے رہے ، اللہ تعالیٰ کے پاس آئے تو وہاں بھی صرف دنیا ہی مانگتے رہے تو فرماتے ہیں کہ اس کا نام پھر صلوٰۃ نہیں ہے۔ لیکن جب انسان خدا کو ملنا چاہتا ہے اور اس کی رضا کو مد نظر رکھتا ہے اور