سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 217
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 185 ہاں دنیاوی کاروبار بھی کرنے ہیں اس میں بھی اللہ تعالیٰ کی رضا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے حق ادا کرنے کے جب وقت آتے ہیں ، اس کی عبادت کرنے کے جب وقت آتے ہیں، نمازوں کے اوقات جب آتے ہیں تو پھر اللہ تعالیٰ کی رضا اس وقت یہ ہے کہ اس کی عبادت کرو اور جب وہ عبادت کر لو، وقت پر نمازیں پڑھ لو اور ان کا حق ادا کرتے ہوئے پڑھ لو تو پھر دنیاوی کاموں میں مصروف ہو جاؤ کیونکہ یہ بھی کرنا اللہ تعالیٰ کا ہی حکم ہے۔ پس عبد بننے کے لئے ضروری ہے کہ اس کی رضا مقصود ہو۔ عبادت بھی اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق ہو اور حکموں پر چلتے ہوئے جن کے کرنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے، اللہ تعالیٰ کے حکموں پر چلنا بھی اس کو ، انسان کو اللہ تعالیٰ کا کامل عبد بناتا ہے جس کے لئے ہر انسان کو ، ہر مومن کو کوشش کرنی چاہیے۔ دنیا کے لئے کوشش کرو، لیکن ۔۔۔ جس حد تک اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے پھر ایک موقع پر اس بارے میں بیان فرماتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام مزید فرماتے ہیں کہ : ”جو اس اصل غرض کو مد نظر نہیں رکھتا اور رات دن دنیا کے حصول کی فکر میں ڈوبا ہوا ہے کہ فلاں زمین خرید لوں، فلاں مکان بنالوں، فلاں جائیداد پر قبضہ ہو جاوے تو ایسے شخص سے سوائے اس کے کہ خدا تعالیٰ کچھ دن مہلت دے کر واپس بلالے اور کیا سلوک کیا جاوے۔“ جو نیکیاں کرنے کا اجر ہے، جو ثواب ہے جو اللہ تعالیٰ کے ہاں جاکے ملنا ہے وہ تو نہیں پھر ملے گا۔ وہ تو دنیا میں ہی ڈوبا ہوا ہے۔ دنیا کماؤ، دنیا کے لئے تردد کرو، دنیا کے لئے کوشش کرو، لیکن اس کے مطابق اور اس حد تک جس حد تک اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے۔ انسان کے دل میں خدا کے قرب کے حصول کا ایک درد ہونا چاہیے ”انسان کے دل میں خدا (تعالی) کے قرب کے حصول کا ایک درد ہونا چاہیے۔ جس کی وجہ سے اس کے نزدیک وہ قابل قدر شے ہو جائے گا۔“ 66 خدا کے حصول کا ایک درد ہونا چاہیے کہ ہم نے خدا تعالیٰ کو حاصل کرنا ہے۔ جب یہ ہو