سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 216
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 184 کوشش کرو۔ اور اس کو بھی انتہا تک پہنچانے کی کوشش کرو۔ ان میں ترقی کرو۔ یہ بھی تو مسیح موعود علیہ السلام کے ماننے والوں کی نشانی ہے کہ وہ دنیاوی معاملات میں بھی ترقی کریں گے۔ یہ نہیں کہ مانگنے والے ہاتھ ہی رہیں، کام کرنے کی طرف توجہ نہ ہو ، محنت کرنے کی طرف توجہ نہ ہو اور ہر وقت یہی ہو کہ ہماری مدد کی جائے۔ یہ نہیں۔ جو بھی کام ہے انسان کو ، ایک حقیقی مومن کو اپنے دنیاوی کاموں کے لئے بھی پوری کوشش کرنی چاہیے۔ اگر کوئی اس سے یہ مراد لے کہ دنیا کے کاروبار سے الگ ہو جائے وہ غلطی کرتا ہے دو دو فرماتے ہیں کہ : حدیث میں آیا ہے کہ جس کے پاس زمین ہو اور وہ اس کا تر ڈد نہ کرے۔“ اس میں محنت نہ کرے، اس کو صحیح طرح استعمال نہ کرے تو اس سے مواخذہ ہو گا۔“ اس سے بھی جواب طلبی ہو گی کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں دنیاوی سامان دیئے تھے تا کہ اس سے تمہارے اندر بہتری پیدا ہو ، تمہارے ہاں کشائش پیدا ہو۔ تم اپنے بیوی بچوں کے حق ادا کرنے والے بنو۔ تم جماعت کے حق ادا کرنے والے بنو۔ اگر تم نے اس جائیداد کا صحیح استعمال نہیں کیا، جو کاروبار تھے ان کو صحیح طرح نہیں چلایا، جو محنت جس کی توقع کی جاتی ہے وہ صحیح طرح نہیں کی تو تب بھی اللہ تعالیٰ پوچھے گا کہ تمہیں میں نے دنیاوی سازو سامان، یہ سب کچھ دیا تھا، تم نے کیوں ان سے فائدہ نہیں اٹھایا ؟ پس فرماتے ہیں: دوا پس اگر کوئی اس سے یہ مراد لے کہ دنیا کے کاروبار سے الگ ہو جائے وہ غلطی کرتا ہے۔“ فرمایا: نہیں اصل بات یہ ہے کہ یہ سب کا روبار جو تم کرتے ہو اس میں دیکھ لو کہ خدا تعالیٰ کی رضاء مقصود ہو۔ اور اُس کے ارادے سے باہر نکل کر اپنی اغراض و جذبات کو مقدم نہ کرو۔“ ( ملفوظات جلد 1 صفحہ 181 تا 184)