سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 215 of 539

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 215

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 183 ”وہ زندگی جو ذمہ داری کی ہے یہی ہے کہ مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ (الذاریات (57) پر ایمان لا کر زندگی کا پہلو بدل لے۔“ یعنی اس بات پر عمل کرو تا کہ اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل ہو اور قرب حاصل کر کے اس کے فضلوں کو حاصل کرنے والے بن جاؤ۔ زندگی جو جانوروں کی طرح بسر ہو رہی ہے یا بغیر عبادتوں کے زندگی بسر ہو رہی ہے اس کو بدل کر پرستش والی زندگی اللہ تعالیٰ کی عبادت والی زندگی اختیار کرو۔ تمہارا ایک عابد ہونے کا پہلو نمایاں ہو جائے، اللہ تعالیٰ کے حقیقی عبد بننے کا پہلو نمایاں ہو جائے۔ فرمایا کہ : موت کا اعتبار نہیں تم اس بات کو سمجھ لو کہ تمہارے پیدا کرنے سے خدا تعالیٰ کی غرض یہ ہے کہ تم اُس کی عبادت کرو اور اُس کے لئے بن جاؤ۔ دنیا تمہاری مقصود بالذات نہ ہو۔“ فرماتے ہیں: میں اس لئے بار بار اس امر کو بیان کرتا ہوں کہ میرے نزدیک یہی ایک بات ہے جس کے لئے انسان آیا ہے۔“ دو فرماتے ہیں: 66 میرے نزدیک یہی ایک بات ہے جس کے لئے انسان آیا ہے اور یہی بات ہے جس سے وہ دور پڑا ہوا ہے۔“ فرماتے ہیں: 66 میں یہ نہیں کہتا کہ تم دنیا کے کاروبار چھوڑ دو۔ بیوی بچوں سے الگ ہو کر کسی جنگل میں یا پہاڑ میں جا بیٹھو۔ اسلام اس کو جائز نہیں رکھتا اور رہبانیت اسلام کا منشاء نہیں ہے۔“ 66 اسلام قطعاً یہ نہیں کہتا کہ دنیا کو چھوڑ دو اور جنگلوں میں جا کر بیٹھ جاؤ۔ نہیں۔ فرمایا: اسلام تو انسان کو چست ، ہوشیار اور مستعد بنانا چاہتا ہے۔ اس لئے میں تو کہتا ہوں کہ دو تم اپنے کاروبار کو جد و جہد سے کرو۔“ اپنے کاروبار جو ہیں، بار جو ہیں، جس کی جو دنیاوی ذمہ داریاں ہیں ان کے لئے کوشش کرو اور پوری