سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 214
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 182 جانوروں کی طرح پھرتے رہو ، کھاؤ پیو سو ؤ اور ختم ہو گیا قصہ ۔ یا د نیا کمالی اور بہت ہو گیا۔ فرماتے ہیں: خواہ کوئی انسان اس مدعا کو سمجھے یا نہ سمجھے مگر انسان کی پیدائش کا مدعا بلاشبہ خدا کی پرستش اور خدا تعالیٰ کی معرفت اور خدا تعالیٰ میں فانی ہو جانا ہی ہے۔“ (اسلامی اصول کی فلاسفی، روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 414) خدا میں فانی انسان اسی وقت ہو سکے گا، خدا کی معرفت اسی وقت پیدا ہو گی جب ہر وقت اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کو سامنے رکھتے ہوئے اس کی عبادت کا حق ادا کرنے کی کوشش کرنے والا ہو گا۔ پھر ایک موقع پر اس کی مزید وضاحت فرماتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : چونکہ انسان فطرتاً خدا ہی کے لئے پیدا ہوا جیسا کہ فرمایا وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ (الذاریات: 57) اس لئے خدا تعالیٰ نے اس کی فطرت ہی میں اپنے لئے کچھ نہ کچھ رکھا ہوا ہے اور مخفی در مخفی اسباب سے اسے اپنے لئے بنایا ہے۔“ یعنی اللہ تعالیٰ کی معرفت پیدا کرنے کی انسان کو صلاحیت دی ہوئی ہے۔ یہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے کہہ دیا کہ میری معرفت حاصل کرو اور صلاحیت نہیں ہے۔ صلاحیت ہے۔ انسان خود اپنی کمزوریوں کی وجہ سے ان صلاحیتوں کو یا دوسری ترجیحات کی وجہ سے ان صلاحیتوں کو ضائع کر دیتا ہے۔ تم اُس کی عبادت کرو اور اُس کے لئے بن جاؤ۔ دنیا تمہاری مقصود بالذات نہ ہو فرماتے ہیں: ”اس سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے تمہاری پیدائش کی اصل غرض یہ رکھی ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو مگر جو لوگ اپنی اس اصلی اور فطری غرض کو چھوڑ کر حیوانوں کی طرح زندگی کی غرض صرف کھانا پینا اور سو رہنا سمجھتے ہیں وہ خدا تعالیٰ کے فضل سے دور جا پڑتے ہیں۔ اور خدا تعالیٰ کی ذمہ داری ان کے لئے نہیں رہتی۔“ وہ اللہ تعالیٰ کا حق ادا نہیں کرتے اس لئے اللہ تعالیٰ بھی اپنے فضل سے انہیں حصہ نہیں دیتا۔