سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 213
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 181 عبد ہونے کا حق ادا کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ کی عبادت کا حق ادا کرنا ہے اور اس کے حکموں کی کامل اطاعت کرنا ضروری ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اس بات کی وضاحت فرمائی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے عبودیت اور ربوبیت میں ایک گہرا تعلق رکھا ہے اور اس تعلق اور رشتہ کو قائم کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے نماز بنائی ہے۔ (ماخوذ از ملفوظات جلد 6 صفحہ 371) پس اس رشتہ کو قائم کرنے کی ضرورت ہے۔ اس بات کو ہم میں سے ہر ایک کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ اگر نماز کے حق ادا نہیں کر رہے تو عبد ہونے کا بھی حق ادا نہیں کر رہے۔ اگر نماز اس کے تمام لوازمات کے ساتھ ادا کرنے کی، اپنے لئے یا اپنی اولاد کے لئے فکر نہیں ہے تو پھر اللہ تعالیٰ کو رب کہنے کا دعویٰ بھی صرف منہ کی باتیں ہیں۔ پس ہمیں بہت فکر سے اپنی نمازوں کی فکر ہونی چاہیے تا کہ ہم عبد ہونے کا بھی حق ادا کرنے والے ہوں اور اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کا بھی صحیح ادراک حاصل کرنے والے ہوں۔ انسان کی پیدائش کا مڈ عابلا شبہ خدا کی پرستش ہے ہمیں اپنے مقصد پیدائش کی طرف توجہ دلاتے ہوئے اس آیت کی وضاحت فرماتے ہوئے ایک جگہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: ” خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ ”میں نے جن اور انسان کو اسی لئے پیدا کیا ہے کہ وہ مجھے پہچانیں اور میری پرستش کریں۔ پس اس آیت کی رُو سے اصل مدعا انسان کی زندگی کا خدا تعالیٰ کی پرستش اور خدا تعالیٰ کی معرفت اور خدا تعالیٰ کے لئے ہو جانا ہے۔“ دو فرماتے ہیں کہ : 66 یہ تو ظاہر ہے کہ انسان کو تو یہ مرتبہ حاصل نہیں ہے کہ اپنی زندگی کا مدعا اپنے اختیار سے آپ مقرر کرے کیونکہ انسان نہ اپنی مرضی سے آتا ہے اور نہ اپنی مرضی سے واپس جائے گا۔ بلکہ وہ ایک مخلوق ہے اور جس نے پیدا کیا اور تمام حیوانات کی نسبت عمدہ اور اعلیٰ قویٰ اس کو عنایت کئے اسی نے اس کی زندگی کا ایک مدعا ٹھہرا رکھا ہے۔“ انسان کو اشرف المخلوقات بنایا ہے تو ساتھ ہی ایک مقصد بھی بنایا ہے۔ یہ نہیں کہ باقی