سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 212 of 539

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 212

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 180 تعالی کی پناہ میں آتے ہوئے دعا کرتا ہے اور ان خیالات کو اور جھٹکتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہوتا ہے تا کہ نماز کی حفاظت ہو۔ تو بہر حال جب اللہ تعالیٰ نے ہدایت پانے والے مومنوں کو نمازوں کے قیام کی ہدایت فرمائی تو اس قیام کا مقصد یہ ہے کہ نہ صرف اپنی نمازوں کی پابندی کرنی ہے، ان کی حفاظت کرنی ہے، خود مسجدوں کو آباد کرنا ہے بلکہ دوسرے لوگوں کو بھی مسجد میں لانے کی کوشش کرنی ہے اور آپس میں مل جل کر ایک دوسرے میں ایسی روح پھونکنی ہے جس سے نمازوں کی طرف توجہ بڑھے اور مومنوں کی وہ جماعت قائم ہو جن کے بارے میں کہا گیا ہے کہ مومن جو ہیں ان کی معراج نماز ہے۔ اقامة الصلوة کا حق ادا کرنے والے بنیں پس انصار اللہ کی یہ بہت بڑی ذمہ داری ہے کہ اس بات کی اہمیت کو سمجھیں۔ اقامة الصلوٰۃ کا حق ادا کرنے والے بنیں۔ اپنے بچوں کو، اپنے گھر والوں کو نمازوں کی طرف توجہ دلائیں۔ انصار اللہ کی عمر کے لوگوں میں سے جو اپنی متعلقہ مجالس کے عہدیدار بھی ہیں اگر وہ خود اس طرف توجہ کریں کہ انہوں نے قیام نماز کا حق ادا کرنا ہے، ہر سطح پر جو عہدیدار ہیں، اور اپنے بچوں کو بھی اس کی تلقین کرتے ہوئے مسجدوں میں لانے کی کوشش کرنی ہے اور اپنے احمدی ہمسایوں کو بھی نماز میں آتے جاتے اس طرف توجہ دلاتے رہنا ہے تو ہم دیکھیں گے کہ ہماری مسجدیں حقیقت میں بارونق مسجدیں بن جائیں گی۔ اور اگر تمام انصار اس کی طرف توجہ کریں تو ایک انقلاب پیدا ہو سکتا ہے۔ پس اس طرف توجہ کرنے کی بہت زیادہ ضرورت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے عبودیت اور ربوبیت میں ایک گہرا تعلق رکھا ہے یہ آیت جو میں نے تلاوت کی ہے یہ انسان کے ، ایک مومن کے اس مقصد پیدائش کی طرف توجہ دلاتی ہے کہ عبادتوں کے حق ادا کرو۔ اور عبادت کا حق اسی وقت ادا ہو گا جب اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے طریق کے مطابق اس کی عبادت کی جائے گی۔ يَعْبُدُونَ کا لفظ عبد سے نکلا ہے اور اس کا مطلب ہے کہ عبادت کا حق ادا کرنے والے اور کامل اطاعت کرنے والے۔ پس