سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 211 of 539

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 211

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 179 ہماری عمر کو کم کر رہا ہے۔ جو وقت اللہ تعالیٰ نے دے دیا ہے اسے اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے استعمال کریں، اس مقصد کو حاصل کرنے کے لئے صرف کریں جو اللہ تعالیٰ نے ہماری زندگی کا مقصد بتایا ہے۔ میرے خیال میں گزشتہ اجتماع انصار اللہ جس میں میں شامل ہوا تھا اس میں بھی میں نے انصار اللہ کو نمازوں کی طرف توجہ دلائی تھی لیکن شاید چند دن یا کچھ تھوڑے عرصہ کے لئے کچھ حد تک اس پر توجہ دی گئی ہو لیکن بعد میں میرے خیال میں دنیاوی مصروفیات اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقرر کردہ مقصد حیات پر حاوی ہو گئیں۔ اسی طرح اکثر خطبات میں بھی میں اس طرف توجہ دلا تار ہتا ہوں لیکن چند دنوں میں ہی اس بات کو بھول جاتے ہیں اور مسجدوں کی آبادیوں میں فرق پڑنا شروع ہو جاتا ہے۔ وہ رونق مسجد کی نہیں رہتی جس کی ایک احمدی مسجد سے توقع کی جاتی ہے۔ حقیقی مومنوں کے لئے يُقِيمُونَ الصَّلوٰة کے الفاظ کا استعمال اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں بے شمار جگہ نماز قائم کرنے کا حکم دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کے شروع میں ہی ہدایت پانے والے اور حقیقی مومنوں کے لئے يُقِيمُونَ الصلوة کے الفاظ استعمال فرمائے یعنی نمازوں کو قائم کرنے والے۔ اگر ہم يُقِيمُونَ الصلوة کے الفاظ کی لغات کے لحاظ سے کچھ وضاحت کریں تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ نماز کو باجماعت ادا کرنے والے ۔ نماز کو اس کی شرائط کے مطابق اور وقت پر ادا کرنے والے۔ ایک دوسرے کو نماز کی تلقین کرنے والے تاکہ مسجدیں بارونق ہوں۔ نمازوں کی خواہش اور محبت دلوں میں پیدا کرنے والے۔ نمازوں کی ادائیگی میں باقاعد گی اور پابندی کرنے والے۔ نماز کی حفاظت کرنے والے۔ اسے گرنے سے بچانے والے۔ اپنی توجہ نماز کی طرف رکھنے والے۔ مومن جو ہیں ان کی معراج نماز ہے نماز پڑھتے ہوئے بعض دوسرے خیالات کی طرف توجہ ہو جاتی ہے تو انسان پھر اللہ