سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 210 of 539

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 210

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 178 اللہ تعالیٰ کی عبادت کا احساس ایک احمدی میں پیدا ہونا چاہیے تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے مندرجہ ذیل آیت کی تلاوت فرمائی: وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ (الذاريات : 57) اور میں نے جن وانس کو پیدا نہیں کیا مگر اس غرض سے کہ وہ میری عبادت کریں۔ پھر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: یہ اس آیت کا ترجمہ ہے جو میں نے تلاوت کی۔ گزشتہ ہفتے خدام الاحمدیہ کا اجتماع تھا۔ اس سال ان کے اجتماع کا theme 'صلوٰۃ تھا بلکہ سارا سال ہی انہوں نے اس بات کے حصول کو اپنا ٹارگٹ مقرر کیا اور کوشش کی کہ خدام میں نمازوں کی طرف توجہ پیدا ہو۔ میں نے اپنی اختتامی تقریر تقریر میں ان کو اسی طرف توجہ دلائی تھی کہ یہ ایک سال کا ٹارگٹ نہیں ہے بلکہ انسانی زندگی کا مقصد حیات ہی یہ ہے اور یہ مقصد اللہ تعالیٰ نے ہمارے لئے مقرر کیا ہے۔ پس اس لحاظ سے میں آج انصار اللہ کو بھی اسی طرف توجہ دلانی چاہتا ہوں کہ یہ ایک ایسا مقصد ہے، زندگی کا ایک ایسا مقصد ہے جسے حاصل کئے بغیر کوئی مسلمان مسلمان ہونے کا حق ادا نہیں کر سکتا۔ لیکن جس طرح اور جس توجہ کے ساتھ اس طرف توجہ دینی چاہیے بد قسمتی سے اس کی جماعت کے ہر طبقے اور عمر کے لوگوں میں بھی کمی ہے، اور انصار اللہ کی عمر کے لوگوں میں سے بہت سے ایسے ہیں جو اس اہم فریضے اور مقصد حیات کی اہمیت کو نہیں سمجھتے۔ اور جو توجہ ہونی چاہیے تھی وہ توجہ نہیں ہے۔ انصار اللہ کی عمر میں آکر تو خاص طور پر اس طرف توجہ ہونی چاہیے۔ جوانی میں اگر احساس نہ بھی پیدا ہو ، گو کہ جوانی میں بھی اللہ تعالیٰ کی عبادت کا احساس ایک احمدی میں پیدا ہونا میں پیدا ہونا چاہیے اور مومن کی یہ شان ہے اور اگر یہ احساس پیدا پیدا نہیں ہوتا تو مومن کی شان کے خلاف ہے اور اسے ایمان سے باہر نکالتا ہے۔ لیکن بڑی عمر میں، چالیس سال کی عمر کے بعد تو یہ احساس بہت بڑھ جانا چاہیے کہ ہر آنے والا دن ہماری عمر میں اضافہ نہیں کر رہا بلکہ