سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 207
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 175 نیز فرمایا: سب سے پہلے جماعت، خدام اور انصار کی عاملہ کو نماز با جماعت میں باقاعدہ ز کریں اس کا باقی افراد پر بھی اثر پڑے گا۔ فرمایا: جب اللہ تعالیٰ نے دنیاوی فضل فرمائے ہوئے ہیں تو اللہ کا شکر بھی ادا کریں اور نمازوں میں با قاعدہ ہوں ۔ سب سے ضروری یہ ہے کہ اللہ کے فرائض پورے کئے جائیں۔ اگر یہ کر لیں تو باقی اجلاسات تو ہوتے رہتے ہیں۔ نیز فرمایا: اگر رمضان میں رات کو ایک دو گھنٹے سوتے ہیں پھر بھی فجر میں آجاتے ہیں تو باقی دنوں میں کیوں نہیں آسکتے ؟ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے دریافت فرمایا کہ: آپ کی جماعت کے زیادہ لوگ کیا کام کرتے ہیں ؟ عرض کیا ملازم پیشہ ہیں۔ فرمایا: چاہیں تو کام پر جانے سے پہلے نماز کے لئے آسکتے ہیں۔ نیز فرمایا: جہاں کام کرتے ہیں وہاں اکٹھے ہو کر نماز باجماعت پڑھ لیا کریں۔ ایک اور رکن کو فرمایا کہ: کام کرنے والے سمجھتے ہیں کہ کپڑے گندے ہیں اس لئے رات کو گھر جا کر نماز پڑھ لیں گے۔ یہ بات درست نہیں۔ نماز وقت پر پڑھنی چاہیے۔ سیکرٹری وصایا موصیوں کی نماز با جماعت اور تلاوت کی بھی نگرانی کریں فرمایا: صرف چندہ دینا کوئی بات نہیں، تربیت بھی ضروری ہے۔ سیکر ٹری وصایا کا یہ بھی کام ہے کہ موصیوں کی نماز با جماعت اور تلاوت قرآن کریم کی بھی نگرانی کرے۔ اس طرف توجہ دلانے کا پروگرام بنائیں۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے۔۔۔۔ فرمایا سیکرٹریان کے ریفریشر کورس کروائیں۔ امیر صاحب نے عرض کیا کرواتے ہیں۔ فرمایا: ہر سیکرٹری کا علیحدہ علیحدہ بھی کروائیں۔