سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 206
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 174 جتنا مالی قربانی پر زور دیتے ہیں اتنار و حانی بجٹ پورا کرنے پر بھی زور دیں عاملہ کو ٹھیک کر لیں تو سب ٹھیک ہو جائیں گے زعیم صاحب سے دریافت فرمایا کہ : کتنے انصار ہیں ؟ عرض کیا 27۔ فرمایا: عاملہ میں کتنے ہیں ؟ عرض کیا 7 ۔ فرمایا: عاملہ کو نماز کا عادی بنایا ہے ؟ نایا عرض کیا کہ گھروں میں سنٹر بنائے ہیں۔ فرمایا: عاملہ سے پوچھیں نماز با جماعت کہاں پڑھتے ہیں ؟ پھر فرمایا: عاملہ کو ٹھیک کر لیں تو سب ٹھیک ہو جائیں گے ۔ فرمایا: عاملہ کو 100 فی صد آنا چاہیے اور باقی لوگوں کو کم از کم 80 فی صد ، کیونکہ کچھ مجبور بھی ہو سکتے ہیں۔ فرمایا: مستقل نمازی بنائیں۔ نیز فرمایا عاملہ کو مستقل نمازی بنالیں تو 50 فی صد تو ٹھیک ہو جائیں گے۔ پھر فرمایا: جتنا مالی قربانی پر زور دیتے ہیں اتنار وحانی بجٹ پورا کرنے پر بھی زور دیں۔ فرمایا: کبھی ایسے سوچا ہے؟ مکرم امیر صاحب نے عرض کیا کہ نیشنل سیکرٹری تربیت جماعتوں کے بہت دورے کر کے نمازوں کی تلقین کرتے ہیں۔ فرمایا: نتیجہ آنا چاہیے جیسے تحریک جدید اور وقف جدید کے چندوں کا نتیجہ ہوتا ہے اسی طرح تربیت کا نتیجہ آنا چاہیے۔ سب سے پہلے جماعت ، انصار اور خدام کی عاملہ کو نماز با جماعت میں با قاعدہ بنائیں فرمایا: عورتوں پر نماز با جماعت فرض نہیں ، اُن کی مرضی ہے۔ لیکن مردوں پر فرض ہے اور انہیں فرائض ادا کرنے چاہئیں۔