سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 193 of 539

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 193

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم حقیقی توحید کس طرح پوری ہوتی ہے فرمایا: 161 توحید تب ہی پوری ہوتی ہے کہ گل مرادوں کا معطی اور تمام امراض کا چارہ اور مدار وہی ذاتِ واحد ہو۔ لَا إِلَهَ إِلَّا الله کے معنی یہی ہیں۔ صوفیوں نے اس میں اللہ کے لفظ سے محبوب، مقصود، معبود مرا دلی ہے۔“ فرمایا: ” بے شک اصل اور سچ یو نہی ہے۔ جب تک انسان کامل طور پر توحید پر کار بند نہیں ہو تا اس میں اسلام کی محبت اور عظمت قائم نہیں ہوتی۔ اور پھر میں اصل ذکر کی طرف رجوع کر کے کہتا ہوں کہ نماز کی لذت اور سرور اُسے حاصل نہیں ہو سکتا۔ مدار اسی بات پر ہے کہ جب تک دار اس بات پر ہے کہ جب تک برے ارادے ، ناپاک اور گندے منصوبے بھسم نہ ہوں، انانیت اور شیخی دُور ہو کر نیستی اور فروتنی نہ آئے، خدا کا سچا بندہ نہیں کہلا سکتا۔ اور عبودیت کاملہ کے سکھانے کے لئے بہترین معلم اور افضل ترین ذریعہ نماز ہی ہے۔“ فرمایا: میں پھر تمہیں بتلاتا ہوں کہ اگر خدا تعالیٰ سے سچا تعلق۔ حقیقی ارتباط قائم کرنا چاہتے ہو تو نماز پر کار بند ہو جاؤ اور ایسے کار بند بنو کہ تمہارا جسم نہ تمہاری زبان بلکہ تمہاری رُوح کے ارادے اور جذبے سب کے سب ہمہ تن نماز ہو جائیں ۔ “ ( ملفوظات جلد 1 صفحہ 169-170) اجتماع میں پانچوں نمازوں کا اہتمام ہونا چاہیے اللہ تعالیٰ ہم سب کو حقیقی توحید پر قائم ہونے، اپنی نمازوں کی حفاظت کرنے اور پھر سرور نمازیں پڑھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ غیر اللہ کو اپنا معبود بنانے کی بجائے ہم ہمیشہ اللہ تعالیٰ کو اپنا حقیقی معبود بنانے والے ہوں۔ انصار اللہ کا اجتماع جہاں ہو رہا ہے وہاں مجھے پتا لگا ہے کہ شاید مغرب اور عشاء کی نمازیں پڑھنے کا انتظام نہیں ہو گا کیونکہ شام کو ایک معین وقت کے بعد انہوں نے وہ جگہ چھوڑنی بھی ہے۔ شاید ہال خالی کرنا ہے۔ اگر تو یہ صحیح ہے تو پھر انتظامیہ کو اجتماع کا انتظام ایسا کرنا چاہیے کہ