سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 192 of 539

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 192

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 160 نمازوں کے جمع کرنے میں نہیں ہو سکتی۔ جبکہ ملازمت میں اور دوسرے کئی امور میں لوگ سزا پاتے ہیں اور ( مورد عتاب حکام ہوتے ہیں ) تو اگر اللہ تعالیٰ کے لئے تکلیف اٹھاویں تو کیا خوب ہے۔“ ( ملفوظات جلد 1 صفحہ 6) احمدیوں کو اللہ تعالیٰ نے مسیح موعود کو ماننے کی وجہ سے وہ رستہ دکھا دیا اگر دنیاوی کاموں میں بھی تکلیفیں اٹھا رہے ہوتے ہیں، اگر نماز کے لئے، فرض پورا کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ کے احکام پر چلنے کے لئے تھوڑی سی تکلیف اٹھا لو تو کیا حرج ہے۔ آپ فرماتے ہیں کہ : دو یہ اللہ تعالیٰ کا کمال فضل ہے کہ اس نے کامل اور مکمل عقائد کی راہ ہم کو اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے بدوں مشقت و محنت کے دکھائی ہے۔“ بغیر کسی مشقت اور محنت کے ہمیں راستہ دکھا دیا۔ دو 66 ” وہ راہ جو آپ لوگوں کو اس زمانہ میں دکھائی گئی ہے بہت سے عالم ابھی تک اس سے محروم ہیں۔“ احمدیوں کو اللہ تعالیٰ نے مسیح موعود کو ماننے کی وجہ سے وہ رستہ دکھا دیا۔ پس خدا تعالیٰ کے اس فضل اور نعمت کا شکر کرو اور وہ شکر یہی ہے کہ سچے دل سے ان اعمال صالحہ کو بجالاؤ جو عقائد صحیحہ کے بعد دوسرے حصہ میں آتے ہیں اور اپنی عملی حالت سے مدد لے کر دعا مانگو کہ وہ ان عقائد صحیحہ پر ثابت قدم رکھے اور اعمال صالحہ کی توفیق بخشے۔ حصہ عبادات میں صوم ، صلوۃ و زکوۃ وغیرہ امور شامل ہیں۔ اب خیال کرو کہ مثلاً نماز ہی ہے یہ دنیا میں آئی ہے لیکن دنیا سے نہیں آئی۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قُتَرَةُ عَيْنِي فِي الصَّلوة ( ملفوظات جلد 1 صفحہ 149-150) حقیقی توحید کس طرح پوری ہوتی ہے پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس بات کی وضاحت فرماتے ہوئے کہ