سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 191
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 159 بعینہ وہی ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام کا تھا۔ آجکل فقراء نے کئی بدعتیں نکال لی ہیں۔ یہ چلے اور در دو ظائف جو انہوں نے رائج کر لئے ہیں ہمیں نا پسند ہیں۔“ بہت سارے لوگ کہتے ہیں کہ بتائیں فلاں کیا دعا کریں۔ خاص دعا کیا ہے۔ خاص کوشش کیا کرنی چاہیے۔ اصل چیز نماز ہے۔ نماز کی طرف ہر احمدی کی پوری توجہ ہونی چاہیے۔ فرمایا کہ: اصل طریق اسلام قرآن مجید کو تدبر سے پڑھنا اور جو کچھ اس میں ہے اس پر عمل کرنا اور نماز توجہ کے ساتھ پڑھنا اور دعائیں توجہ اور انابت الی اللہ سے کرتے رہنا۔ بس نماز ہی ایسی چیز با ایسی چیز ہے جو معراج کے مراتب تک پہنچا دیتی ہے۔ یہ ہے تو سب کچھ ہے۔“ (ملفوظات جلد 10 صفحہ 107) اور معراج پر پہنچانے والی نماز وہ ہے جو اللہ تعالیٰ کے حضور کھڑا ہونے والے کے دل کو پگھلا دے۔ تہجد میں خاص کر اٹھو اور ذوق اور شوق سے ادا کرو پھر فرائض نمازوں کے ساتھ تہجد کی تاکید بھی آپ نے فرمائی اور انصار اللہ کو تو خاص طور پر اس کا بھی التزام کرنا چاہیے۔ آپؐ فرماتے ہیں: اس زندگی کے کل انفاس اگر دنیاوی کاموں میں گزر گئے تو آخرت کے لئے کیا ذخیرہ کیا ؟“۔ اگر ساری سانسیں اور ساری عمر دنیاوی کاموں کے لئے گزار دی تو آخرت کے لئے کیا ذخیرہ کیا؟ فرمایا کہ: تہجد میں خاص کر اٹھو اور ذوق اور شوق سے ادا کرو۔ درمیانی نمازوں میں یہ باعث ملازمت کے ابتلا آجاتا ہے۔“ یعنی آگے پیچھے بھی ہو جاتی ہیں۔ بعض دفعہ ایسا ابتلا بھی آجاتا ہے کہ قضاء بھی ہو جاتی ہیں۔ فرمایا کہ : رازق اللہ تعالیٰ ہے۔ نماز اپنے وقت پر ادا کرنی چاہیے۔ ظہر و عصر کبھی کبھی جمع ہو سکتی ہے۔ اللہ تعالیٰ جانتا تھا کہ ضعیف لوگ ہوں گے اس لئے یہ گنجائش رکھ دی۔ مگر یہ گنجائش تین