سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 190 of 539

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 190

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 158 نے تو ایسا سمجھ لیا ہے جیسے کہ دوسرا نبی آگیا ہے اور اس نے گویا نماز کو منسوخ ہی کر دیا ہے۔“ آپ کے خلاف جو لوگ باتیں کرتے ہیں ان کے بارے میں آپ فرمارہے ہیں جب میں یہ کہتا ہوں کہ اپنی زبان میں دعائیں کرو تو کہتے ہیں کہ نئی شریعت لے آئے۔ فرمایا: ”دیکھو خدا تعالیٰ کا اس میں فائدہ نہیں بلکہ خود انسان ہی کا اس میں بھلا ہے کہ اُس کو خدا تعالیٰ کی حضوری کا موقع دیا جاتا ہے اور عرض معروض کرنے کی عزت عطا کی جاتی ہے جس سے یہ بہت سی مشکلات سے نجات پاسکتا ہے۔ میں حیران ہوں کہ وہ لوگ کیونکر زندگی بسر کرتے ہیں جن کا دن بھی گزر جاتا ہے اور رات بھی گزر جاتی ہے مگر وہ نہیں جانتے کہ ان کا کوئی خدا بھی ہے۔ یاد رکھو کہ ایسا انسان آج بھی ہلاک ہوا اور کل بھی۔“ فرمایا کہ: ”میں ایک ضروری نصیحت کرتا ہوں کاش لوگوں کے دل میں پڑ جاوے۔ دیکھو عمر گزری جارہی ہے غفلت کو چھوڑ دو اور تضرع اختیار کرو۔ اکیلے ہو ہو کر خدا تعالیٰ سے دعا کرو کہ خدا ایمان کو سلامت رکھے اور تم پر وہ راضی اور خوش ہو جائے۔“ (ملفوظات جلد 10 صفحہ 411 تا 413) نماز ہی ایسی چیز ہے جو معراج کے مراتب تک پہنچا دیتی ہے ایک موقع پر نصیحت کرتے ہوئے کہ حقیقی نماز کیا چیز ہے؟ آپ فرماتے ہیں کہ : وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِيْنَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنا (العنکبوت :70) پوری کوشش سے اس کی راہ میں لگے رہو منزل مقصود تک پہنچ جاؤ گے۔“ کوشش کرو جہاد کرو۔ فرمایا کہ توبہ واستغفار وصول الی اللہ کا ذریعہ ہے۔ اس طرف توجہ دینی چاہیے۔ اللہ تعالیٰ یہ فرماتا ہے اور جو لوگ ہمارے رستے میں کوشش کرتے ہیں ان کو ہم پھر صحیح رستوں کی طرف رہنمائی بھی کر دیتے ہیں۔ فرمایا کہ: اللہ تعالیٰ کو کسی سے بخل نہیں۔ آخر انہیں مسلمانوں میں سے وہ تھے جو قطب اور ابدال اور غوث ہوئے۔ اب بھی اُس کی رحمت کا دروازہ بند نہیں۔ قلب سلیم پیدا کرو۔ نماز سنوار کر پڑھو۔ دعائیں کرتے رہو۔ ہماری تعلیم پر چلو۔ ہم بھی دعا کریں گے۔ یاد رکھو ہمارا طریق