سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 189 of 539

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 189

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 157 لے۔ مگر ہاں یہ ضروری ہے کہ خدا تعالیٰ کے کلام کو اسی طرح پڑھو۔ اس میں اپنی طرف سے کچھ دخل مت دو۔ اس کو اسی طرح پڑھو اور معنی سمجھنے کی کوشش کرو۔ اسی طرح ماثورہ دعاؤں کا بھی اسی زبان میں التزام رکھو۔ قرآن اور ماثورہ دعاؤں کے بعد جو چاہو خدا تعالیٰ سے مانگو اور جس زبان میں چاہو مانگو۔ وہ سب زبانیں جانتا ہے۔ سنتا ہے۔ قبول کرتا ہے۔“ فرمایا: 66 اگر تم اپنی نماز کو با حلاوت اور پر ذوق بنانا چاہتے ہو تو ضروری ہے کہ اپنی زبان میں کچھ نہ کچھ دعائیں کرو۔ مگر اکثر یہی دیکھا گیا ہے کہ نمازیں تو ٹکریں مار کر پوری کر لی جاتی ہیں۔ پھر لگتے ہیں دعائیں کرنے۔“ اکثر مسلمان ملکوں میں غیر احمدیوں میں یہی رواج ہے کہ نماز جلدی جلدی پڑھ لی۔ اس کے بعد ہاتھ اٹھا کے دعا کرنے لگ گئے۔ فرمایا یہ دعائیں کرنے لگ جاتے ہیں۔ فرمایا کہ : ” اس سے ظاہر تو یہی لگتا ہے کہ نماز تو ایک ناحق کا ٹیکس ہوتا ہے۔ اگر کچھ اخلاص ہوتا ہے تو نماز کے بعد میں ہوتا ہے۔ یہ نہیں سمجھتے کہ نماز خود دعا کا نام ہے جو بڑے عجز ، انکسار ، خلوص اور اضطراب سے مانگی جاتی ہے۔ بڑے بڑے عظیم الشان کاموں کی کنجی صرف دعا ہی ہے۔ خدا تعالیٰ کے فضل کے دروازے کھولنے کا پہلا مرحلہ دعا ہی ہے۔“ غفلت کو چھوڑ دو اور تفرع اختیار کرو فرمایا کہ: نماز کو رسم اور عادت کے رنگ میں پڑھنا مفید نہیں بلکہ ایسے نمازیوں پر تو خود خدا تعالیٰ نے لعنت اور ویل بھیجا ہے چہ جائیکہ ان کی نماز کو قبولیت کا شرف حاصل ہو۔ وَيْلٌ لِلْمُصَلِّينَ ( الماعون :5) خو د خد اتعالیٰ نے فرمایا ہے۔ یہ ان نمازیوں کے حق میں ہے جو نماز کی حقیقت سے اور اس کے مطالب سے بے خبر ہیں۔ صحابہ تو خود عربی زبان رکھتے تھے اور اس کی حقیقت کو خوب سمجھتے تھے مگر ہمارے واسطے یہ ضروری ہے کہ اس کے معانی سمجھیں اور اپنی نماز میں اس طرح حلاوت پیدا کریں مگر ان لوگوں