سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 188
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 156 نماز خود دعا کا نام ہے۔ بڑے عظیم الشان کاموں کی کنجی دعا ہے صحابہ کس طرح غالب آئے ؟ اس کی وضاحت کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں: اخلاص جیسی اور کوئی تلوار دلوں کو فتح کرنے والی نہیں۔ ایسے ہی امور سے وہ لوگ دنیا پر غالب آگئے تھے۔ صرف زبانی باتوں سے کچھ ہو نہیں سکتا۔“ فرمایا کہ: اب نہ پیشانی میں نور اور نہ روحانیت ہے اور نہ معرفت کا کوئی حصہ ۔“ 66 نماز کی معرفت نہیں ہے۔ نماز پڑھنے کی وجہ سے جو نور ملتا ہے وہ نہیں ہے۔ نمازیں بھی بوجھ سمجھی جاتی ہیں۔ فرمایا کہ : دو ” خدا تعالیٰ ظالم نہیں ہے۔ اصل بات ہی یہی ہے کہ ان کے دلوں میں اخلاص نہیں۔ صرف ظاہری اعمال سے جو رسم اور عادت کے رنگ میں کئے جاتے ہیں کچھ نہیں بنتا۔ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے جماعت میں بہت سارے ایسے ہیں جو خالص ہو کر نمازیں پڑھنے والے ہیں۔“ یہ عمومی حالت آپ اُس زمانے کی بیان فرمارہے ہیں۔ پس یہ ہمارے لئے بھی سبق ہے اور ایک تنبیہ بھی ہے۔ ان باتوں کا خیال رکھیں۔ فرمایا: اس سے کوئی یہ نہ سمجھ لے کہ میں نماز کی تحقیر کرتا ہوں۔ وہ نماز جس کا ذکر قرآن میں ہے اور وہ معراج ہے۔ بھلا ان نمازیوں سے کوئی پوچھے تو سہی کہ ان کو سورہ فاتحہ کے معنی بھی آتے ہیں۔ پچاس پچاس برس کے نمازی ملیں گے مگر نماز کا مطلب اور حقیقت پوچھو تو اکثر بے خبر ہوں گے حالانکہ تمام دنیوی علوم ان علوم کے سامنے بیچ ہیں۔ بایں دنیوی علوم کے واسطے تو جان توڑ محنت اور کوشش کی جاتی ہے اور اس طرف سے ایسی بے التفاتی ہے کہ اسے جنتر منتر کی طرح پڑھ جاتے ہیں۔“ اکثر مسلمانوں میں سے یہی حالت دیکھیں گے۔ فرمایا: میں تو یہاں تک بھی کہتا ہوں کہ اس بات سے مت رکو کہ نماز میں اپنی زبان میں دعائیں کرو۔ بے شک اردو میں، پنجابی میں ، انگریزی میں ، جو جس کی زبان ہو اُسی میں دعا کر