سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 187
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم وسوسہ گزر جاتا ہے۔“ 155 ایک قیدی جب حاکم کے سامنے کھڑا ہو تو اور خیال اس کے دل میں آہی نہیں سکتا۔ یہی مثال ہے۔ فرمایا کہ : دو ہر گز نہیں۔“ کبھی اس کے دل میں یہ خیال نہیں آئے گا۔ ”وہ ہمہ تن حاکم کی طرف متوجہ ہوتا ہے اور اس فکر میں ہوتا ہے کہ ابھی حاکم کیا حکم سناتا ہے۔ اس وقت تو وہ اپنے وجود سے بھی بالکل بے خبر ہوتا ہے۔ ایسا ہی جب صدق دل سے مان خدا تعالیٰ کی طرف رجوع کرے اور سچے دل سے اس ے اور سچے دل سے اس کے آستانہ پر گرے تو پھر کیا مجال ہے که شیطان وساوس ڈال سکے ۔ “ ( ملفوظات جلد 10 صفحہ 90-91) خدا تعالیٰ کو ہماری نمازوں کی کوئی ضرورت نہیں نماز کی حفاظت کیوں کی جائے اور نماز کیوں پڑھی جائے؟ کیا اللہ تعالیٰ کو ہماری نمازوں کی ضرورت ہے؟ اکثر لوگوں کے ذہنوں میں یہ بھی سوال اٹھتے ہیں۔ آجکل کی دہریت کے اثر کی اٹھتے رہتے ہیں۔ اس بات کی وضاحت فرماتے ہوئے کہ اللہ غنی ہے ہے اور اور اسے ہماری عبادتوں کی ضرورت نہیں ہے بلکہ ہمیں اس کی ضرورت ہے۔ آپؐ فرماتے ہیں: وجہ سے ا پھر یہ بھی سمجھنا چاہیے کہ نماز کی حفاظت اس واسطے نہیں کی جاتی کہ خدا کو ضرورت ہے۔ خدا تعالیٰ کو ہماری نمازوں کی کوئی ضرورت نہیں۔ وہ تو غنی عن العالمین ہے۔ اس کو کسی کی حاجت نہیں۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کو ضرورت ہے اور یہ ایک راز کی بات ہے کہ انسان خود اپنی بھلائی چاہتا ہے اور اسی لئے وہ خدا سے مدد طلب کرتا ہے۔ کیونکہ یہ سچی بات ہے کہ انسان کا خدا تعالیٰ سے تعلق ہو جانا حقیقی بھلائی کا حاصل کر لینا ہے۔ ایسے شخص کی اگر تمام دنیا دشمن ہو جائے اور اس کی ہلاکت کے درپے رہے تو اس کا کچھ بگاڑ نہیں سکتی اور خدا تعالیٰ کو ایسے شخص کی خاطر اگر لاکھوں کروڑوں انسان بھی ہلاک کرنے پڑیں تو کر دیتا ہے اور اس ایک کی بجائے لاکھوں کو فنا کر دیتا ہے۔“ (ملفوظات جلد 10 صفحہ 66)