سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 186 of 539

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 186

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم غیر اللہ کی طرف جھکنا خدا سے کاٹنا ہے فرمایا: 154 ”میں اس امر کو پھر تاکید سے کہتا ہوں۔ افسوس ہے کہ مجھے وہ لفظ نہیں ملے جس میں غیر اللہ کی طرف رجوع کرنے کی برائیاں بیان کر سکوں۔ لوگوں کے پاس جا کر منت خوشامد کرتے ہیں۔ یہ بات خدا تعالیٰ کی غیرت کو جوش میں لاتی ہے کیونکہ یہ تو لوگوں کی نماز ہے۔ پس وہ اس سے ہٹتا اور اسے دور پھینک دیتا ہے۔ میں موٹے الفاظ میں اس کو بیان کرتا ہوں۔ گو یہ امر اس طرح پر نہیں ہے مگر سمجھ میں خوب آ سکتا ہے کہ جیسے ایک مردِ غیور کی غیرت تقاضا نہیں کرتی کہ وہ اپنی بیوی کو کسی غیر کے ساتھ تعلق پیدا کرتے ہوئے دیکھ سکے اور جس طرح پر وہ مرد ایسی حالت میں اس نابکار عورت کو واجب القتل سمجھتا بلکہ بسا اوقات ایسی وارداتیں ہو جاتی ہیں۔ ایسا ہی جوش اور غیرت الوہیت کا ۔ اور غیرت الوہیت کا ہے۔ اللہ تعالیٰ کو بڑی غیرت ہے۔ عبودیت عبودیت اور دعا خاص اسی ذات کے مد مقابل ہیں۔ پس اسی ذات کے مد مقابل ہیں یعنی عبودیت اور دعا خاص کر اسی کو چاہیے۔ وہ پسند نہیں کر سکتا کہ کسی اور کو معبود قرار دیا جاوے یا پکارا جاوے۔ پس خوب یاد رکھو! اور پھر یاد رکھو! کہ غیر اللہ کی طرف جھکنا خدا سے کاٹنا ہے۔ نماز اور توحید کچھ ہی کہو کیونکہ توحید کے عملی اقرار کا نام ہی نماز ہے۔ اس وقت بے برکت اور بے سود ہوتی ہے جب اس میں نیستی اور تذلیل کی روح اور حنیف دل نہ ہو ۔ “ (ملفوظات جلد 1 صفحہ 166 تا 168) جن لوگوں کو خدا کی طرف پورا التفات نہیں ہوتا اُنہی کو نماز میں بہت وساوس آتے ہیں پھر نماز میں وساوس پیدا ہونے کی وجہ بیان فرماتے ہیں۔ بعض دفعہ کہتے ہیں کہ مختلف قسم کے وسو سے پیدا ہوتے رہتے ہیں۔ خیالات آتے رہتے ہیں۔ فرمایا کہ : جن لوگوں کو خدا کی طرف پورا التفات نہیں ہوتا اُنہی کو نماز میں بہت وساوس آتے ہیں۔ دیکھو ایک قیدی جبکہ ایک حاکم کے سامنے کھڑا ہوتا ہے تو کیا اس وقت اس کے دل میں کوئی