سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 185
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم دو فرمایا: 153 جب ایسی حالت ہو تو لا ریب وہ مسلم ہے۔“ تب یقیناً وہ مسلمان ہے۔ وہ مومن اور حنیف ہے۔ لیکن جو شخص اللہ تعالیٰ کے سوا غیر اللہ سے سوال کرتا ہے اور ادھر بھی جھکتا ہے وہ یاد رکھے کہ بڑا ہی بد قسمت اور محروم ہے کہ اس پر وہ وقت آجانے والا ہے کہ وہ زبانی اور نمائشی طور پر اللہ تعالیٰ کی طرف نہ جھک سکے۔ فرمایا کہ : ترک نماز کی عادت اور کسل کی ایک وجہ یہ بھی ہے کیونکہ جب انسان غیر اللہ کی طرف جھکتا ہے تو روح اور دل کی طاقتیں اس درخت کی طرح (جس کی شاخیں ابتداء ایک طرف کر دی جاویں اور اس طرف جھک کر پرورش پالیس) ادھر ہی جھکتا ہے۔“ پس یہ بہت اہم بات ہے۔ جب نماز ترک کی یا کمزوریاں دکھائیں۔ نماز پڑھنے میں سستی دکھائی اور اللہ کے سوا کسی اور طرف زیادہ انحصار کرنا شروع کر دیا تو پھر انسان اس درخت کی طرح دور ہٹتا چلا جاتا ہے جس کی شاخوں کا رخ اگر ایک طرف پھیر دیا جائے تو آہستہ آہستہ وہ شاخیں اسی طرف بڑھنی شروع ہو جاتی ہیں۔ فرمایا: ” اور خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک سختی اور تشدد اس کے دل میں پیدا ہو کر اسے منجمد اور پتھر بنا دیتا ہے۔ جیسے وہ شاخیں جو درخت کی شاخیں ایک طرف جھک رہی تھیں پھر دوسری طرف مڑ نہیں سکتا۔ اسی طرح پر دل اور روح دن بدن خدا تعالیٰ سے دور ہوتی جاتی ہے۔ پس یہ بڑی خطرناک اور دل کو کپکپا دینے والی بات ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر دوسرے سے سوال کرے۔ اسی لئے نماز کا التزام اور پابندی بڑی ضروری چیز ہے تا کہ اوّلاً وہ ایک عادت راسخہ کی طرح قائم ہو اور رجوع الی اللہ کا خیال ہو۔ پھر رفتہ رفتہ وہ وقت خود آجاتا ہے جبکہ انقطاع کلی کی وس حالت میں انسان ایک نور اور ایک لذت کا وارث ہو جاتا ہے۔ پھر ہر چیز سے علیحدہ ہو جاتا ہے۔ کٹ جاتا ہے اور صرف اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع ہوتا ہے۔ تب انسان کو ایک نور ملتا ہے اور لذت حاصل ہوتی ہے۔“