سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 184 of 539

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 184

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 152 جب یہ حالت ہو جاتی ہے تو گناہ کا خیال کس طرح آسکتا ہے اور انکار اس میں پیدا ہی نہیں ہو سکتا۔ فرمایا کہ : فحشاء کی طرف اس کی نظر اٹھ ہی نہیں سکتی۔ غرض ایک ایسی لذت، ایسا سرور حاصل ہوتا ہے میں نہیں سمجھ سکتا کہ اسے کیونکر بیان کروں۔“ (ملفوظات جلد 1 صفحہ 164 تا166) غیر اللہ سے سوال کرنامو منانہ غیرت کے صریح اور سخت مخالف ہے پھر اس بات کی وضاحت فرماتے ہوئے کہ ایک غیرت مند مومن ہر حالت میں صرف اللہ تعالیٰ کے آگے ہی جھکتا ہے اور جھکنا چاہیے اور اللہ تعالیٰ کے غیر کو کسی صورت میں بھی اپنی امیدوں اور توجہ کا مرکز نہیں بنانا چاہیے۔ آپؐ فرماتے ہیں: پھر یہ بات یاد رکھنے کے قابل ہے کہ یہ نماز جو اپنے اصلی معنوں میں نماز ہے دعا سے حاصل ہوتی ہے۔ نماز بھی دعا سے حاصل ہوتی ہے۔ غیر اللہ سے سوال کرنا مومنانہ غیرت کے صریح اور سخت مخالف ہے کیونکہ یہ مرتبہ دعا کا اللہ ہی کے لئے ہے۔ جب تک انسان پورے طور پر حنیف ہو کر اللہ تعالیٰ ہی سے سوال نہ کرے اور اسی سے نہ مانگے۔ سچ سمجھو کہ حقیقی طور پر وہ سچا مسلمان اور سچا مومن کہلانے کا مستحق نہیں۔ اسلام کی حقیقت ہی یہ ہے کہ اس کی تمام طاقتیں اندرونی ہوں یا بیرونی، سب کی سب اللہ تعالیٰ ہی کے آستانہ پر گری ہوئی ہوں۔ جس طرح پر ایک بڑا انجن بہت سی کلوں کو چلاتا ہے ، بہت سے پرزوں کو ایک انجن چلاتا ہے ۔ پس اسی طور پر جب تک انسان اپنے ہر کام اور ہر حرکت و سکون کو اسی انجن کی طاقت عظمیٰ کے ماتحت نہ کر لیوے وہ کیونکر اللہ تعالیٰ کی الوہیت کا قائل ہو سکتا ہے اور اپنے آپ کو انّي وَجَهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَواتِ وَالأَرْضَ (الانعام:80) کہتے وقت واقعی حنیف کہہ سکتا ہے ؟ جیسے منہ سے کہتا ہے ویسے ہی ادھر کی طرف متوجہ ہو۔“ 66 جب اپنی تمام توجہ اللہ تعالیٰ کی طرف پھیرنے کا اظہار کرتا ہے اور اپنے آپ کو عبادت کرنے والا موحد کہتا ہے تو فرمایا کہ پھر تمام توجہ اس طرف متوجہ ہونی چاہیے۔