سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 183 of 539

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 183

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 151 ربوبیت اور عبودیت کے ملنے سے پیدا ہو۔ فرمایا کہ : پس یہی وہ صلوٰۃ ہے جو سیئات کو بھسم کر جاتی ہے۔“ 66 اس طرح کی نماز ہو اس طرح کی صلوۃ ہو تبھی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ برائیوں کو ختم کرتی ہے۔ تو پھر برائیاں ختم ہوتی ہیں، ان کو جلا دیتی ہے۔ اور اپنی جگہ ایک نور اور چمک چھوڑ دیتی ہے جو سالک کو راستے کے خطرات اور مشکلات کے وقت ایک منور شمع کا کام دیتی ہے۔“ 66 ایک روشنی کا کام دیتی ہے۔ ایک ٹارچ لائٹ کا کام دیتی ہے۔ اور ہر قسم کے خس و خاشاک اور ٹھوکر کے پتھروں اور خار و خس سے جو اس کی راہ میں ہوتی ہیں آگاہ کر کے بچاتی ہے۔“ ہر برائی نظر آجاتی ہے۔ ”اور یہی وہ حالت ہے جبکہ اِنَّ الصَّلوةَ تَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ (العنکبوت:46) کا اطلاق اس پر ہوتا ہے کیونکہ اس کے ہاتھ میں نہیں ، اس کے دل میں ایک روشن چراغ رکھا ہوا ہوتا ہے۔“ دو فرمایا: یہی وہ حالت ہے جبکہ إِنَّ الصَّلوةَ تَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ کا اطلاق اس پر ہوتا ہے کہ نماز جو ہے وہ فحشاء اور گناہوں سے روکتی ہے۔ غلط چیزوں سے روکتی ہے۔“ فرمایا کہ: 66 ” اس وقت اس کے دل میں ایک روشن چراغ رکھا ہوا ہوتا ہے اور یہ درجہ کامل تذلل، کامل نیستی اور فروتنی اور پوری اطاعت سے حاصل ہوتا ہے۔“ فرمایا: پھر گناہ کا خیال اسے کیونکر آسکتا ہے۔“ 66