سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 182 of 539

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 182

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 150 عالموں میں جو اس پر مختلف اوقات میں گزرے ہیں اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کا معترف ہو اور وہ نقشہ ہر آن اس کے ذہن میں کھنچار ہے تو بھی وہ اس قابل ہو سکتا ہے کہ ربوبیت کے مد مقابل میں اپنی عبودیت کو ڈال دے۔“ انسان جب یہ سارا سوچے کہ میں کس طرح پیدا ہوا؟ کس طرح مختلف مراحل میں سے گزرا؟ کس طرح بڑا ہوا؟ کس طرح اللہ تعالیٰ نے مجھے پالا پوسا بڑا کیا؟ تو تبھی صحیح طرح، صحیح عبودیت کا حق ، ایک عبد بننے کا حق انسان سوچ سکتا ہے اور ادا کر سکتا ہے۔ فرمایا کہ: غرض مدعا یہ ہے کہ نماز میں لذت اور سرور بھی عبودیت اور ربوبیت کے ایک تعلق سے پیدا ہوتا ہے۔ جب تک اپنے آپ کو عدم محض یا مشابہ بالعدم قرار دے کر ( جب تک بے وقعت اور بے حقیقت نہ سمجھو گے) جو ربوبیت کا ذاتی تقاضا ہے نہ ڈال دے اس کا فیضان اور پر تو اس پر نہیں پڑتا۔“ اللہ تعالیٰ کے فیض سے فائدہ اٹھانا ہے تو کامل عبودیت پیدا کرنی ہو گی۔ فرمایا کہ : اور اگر ایسا ہو تو پھر اعلیٰ درجہ کی لذت حاصل ہوتی ہے جس سے بڑھ کر کوئی حظ نہیں ہے۔ اس مقام پر انسان کی روح جب ہمہ نیستی ہو جاتی ہے تو وہ خدا کی طرف ایک چشمہ کی طرح بہتی ہے اور ماسوی اللہ سے اسے انقطاع تام ہو جاتا ہے۔“ اُس خاص کیفیت کا نام صلوۃ ہے جو ربوبیت اور عبودیت کے ملنے سے پیدا ہو اللہ کے علاوہ ہر دوسری چیز سے وہ مکمل طور پر تعلق کاٹ لیتا ہے۔ اس وقت خدائے تعالیٰ کی محبت اس پر گرتی ہے۔ اس اتصال کے وقت ان دو جو شوں سے جو اوپر کی طرف سے ربوبیت کا جوش اور نیچے کی طرف سے عبودیت کا جوش ہوتا ہے ایک خاص کیفیت پیدا ہوتی ہے۔“ ایسا تعلق جب پیدا ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ کی ربوبیت پھر جوش میں آتی ہے اور انسان کی عبودیت کا بھی ایک جوش پیدا ہو رہا ہوتا ہے اور جب یہ دونوں ملتے ہیں تو آپ نے فرمایا کہ تب ایک خاص کیفیت پیدا ہوتی ہے۔ ”اس کا نام صلوۃ ہے۔“ اس خاص کیفیت کا نام صلوۃ ہے جو