سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 181
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم دو 149 یہ آداب اور طرق ہیں جو خدا تعالیٰ نے بطور یادداشت کے مقرر کر دیئے ہیں اور جسم کو باطنی طریق سے حصہ دینے کی خاطر ان کو مقرر کیا ہے۔“ انسان جس طرح ظاہری طور پر یہ آداب بجالا رہا ہے ، اسی طرح اندرونی طور پر روحانی طور پر روح کو بھی اسی طرح آداب بجالانے چاہئیں۔ دل کا بھی اسی طرح قیام اور رکوع اور سجدہ ہونا چاہیے۔ فرمایا کہ : علاوہ ازیں باطنی طریق کے اثبات کی خاطر ایک ظاہری طریق بھی رکھ دیا ہے۔ اب اگر ظاہری طریق میں (جو اندرونی اور باطنی طریق کا ایک عکس ہے) صرف نقال کی طرح نقلیں اتاری جاویں۔ صرف ہاتھ باندھ لئے، رکوع میں چلے گئے، سجدے میں چلے گئے، بیٹھ گئے اگر نقال کی طرح صرف یہ اُٹھک بیٹھک ہی کرنی ہے، نقل ہی اتارنی ہے فرمایا: : اور اسے ایک بار گراں سمجھ کر اتار پھینکنے کی کوشش کی جاوے تو تم ہی بتاؤ اس میں کیا لذت اور حظ آسکتا ہے اور جب تک لذت اور سرور نہ آئے اس کی حقیقت کیونکر متحقق ہو گی۔“ لذت اور سرور نہیں آیا تو پتہ ہی نہیں لگ سکتا کہ نماز کی حقیقت کیا ہے؟ فرمایا: ”اور یہ اس وقت ہو گا جبکہ روح بھی ہمہ نیستی اور تذلل تام ہو کر آستانہ الوہیت پر گرے۔“ پس روح کو بھی اسی طرح سجدہ کرنا چاہیے اور اللہ تعالیٰ کے آگے گرنا چاہیے جس طرح انسان کا جسم سجدے میں چلا جاتا ہے اور جو زبان بولتی ہے روح بھی بولے۔ جو الفاظ زبان سے بولے جارہے ہیں وہ دل سے نکلنے والے الفاظ ہوں۔ فرمایا کہ : اس وقت ایک سرور اور نور اور تسکین حاصل ہو جاتی ہے۔“ فرماتے ہیں کہ : 66 ”میں اس کو اور کھول کر لکھنا چاہتا ہوں کہ انسان جس قدر مراتب طے کر کے انسان ہوتا ہے۔ یعنی کہاں نطفہ بلکہ اس سے بھی پہلے نطفے کے اجزاء یعنی مختلف قسم کی اغذیہ اور ان کی ساخت اور بناوٹ پھر نطفے کے بعد مختلف مدارج کے بعد بچہ ۔ پھر جوان۔ بوڑھا۔ غرض ان تمام