سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 180 of 539

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 180

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 148 کہ وہ نماز بدیوں کو دور کرتی ہے جو اپنے اندر ایک سچائی کی روح رکھتی ہے۔ وہ نماز بدیوں کو ڈور کرتی ہے جو اپنے اندر ایک سچائی کی روح رکھتی ہے اور فیض کی تاثیر اس میں موجود ہے۔ وہ نماز یقیناً یقیناً برائیوں کو دور کرتی ہے۔“ فرمایا کہ: نماز نشست و برخاست کا نام نہیں ہے۔“ نماز صرف اٹھنے بیٹھنے کا نام نہیں ہے۔ ”نماز کا مغز اور روح وہ دعا ہے جو ایک لذت اور سرور اپنے اندر رکھتی ہے۔“ (ملفوظات )164 162 جلد 1 صفحہ ارکان نماز در اصل روحانی نشست و برخاست ہیں نماز کی روح اور مقصد کو حاصل کرنے کی کس طرح کوشش کرنی چاہیے ؟ ارکانِ نماز جو ہیں، قیام ہے۔ رکوع ہے۔ سجدہ ہے۔ قعدہ ہے۔ یہ جو ساری حالتیں نماز میں ہیں اس لئے رکھی گئی ہیں کہ اس مقصد کو حاصل کیا جائے۔ اس روح کو حاصل کیا جائے۔ اس بارہ میں آپ فرماتے ہیں کہ : ارکان نماز در اصل روحانی نشست و برخاست ہیں۔ انسان کو خدا تعالیٰ کے روبرو کھڑا ہونا پڑتا ہے اور قیام بھی آداب خدمتگاران میں سے ہے۔“ جو خدمت کرنے والے لوگ ہیں کسی بڑے آدمی کے سامنے جاتے ہیں تو ادب سے کھڑے ہوتے ہیں۔ تو قیام جو ہے نماز میں وہ ادب کی نشانی ہے۔ رکوع جو دوسرا حصہ ہے بتلاتا ہے کہ گویا تیاری ہے کہ وہ تعمیل حکم کو کس قدر گردن جھکاتا ہے اور سجدہ کمالِ آداب اور کمالِ تذلل اور نیستی کو جو عبادت کا مقصود ہے ظاہر کرتا ہے۔“ جب انسان سجدہ کرتا ہے تو اپنے آپ کو انتہائی عاجزی اور نیستی اور تذلل کی حالت میں لے جاتا ہے۔ یہی عبادت کا مقصد ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کے آگے سر جھکاتا ہوں۔ فرمایا کہ: