سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 179 of 539

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 179

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 147 اور پھر ایک خلوص اور جوش کے ساتھ کم از کم اس نشہ باز کے اضطراب اور قلق و کرب کی مانند ہی ایک دعا پیدا ہو کہ وہ لذت حاصل ہو تو میں کہتا ہوں۔“ 66 پیدا ہو۔“ آپ فرماتے ہیں: دو ” اس لذت کے حاصل کرنے کے لئے اگر یہ دعا پیدا ہو، ایک کرب پیدا ہو ، اضطراب تو آپ فرماتے ہیں: تو میں کہتا ہوں اور سچ کہتا ہوں کہ یقیناً یقینا وہ لذت حاصل ہو جاوے گی۔“ وہ نماز بدیوں کو دور کرتی ہے جو اپنے اندر ایک سچائی کی روح رکھتی ہے پھر آپ فرماتے ہیں: پھر نماز پڑھتے وقت ان مفاد کا حاصل کرنا بھی ملحوظ ہو جو اس سے ہوتے ہیں اور احسان پیش نظر رہے ۔ اِنَّ الْحَسَنَتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّاتِ (هود:115) فرماتے ہیں: نیکیاں بدیوں کو زائل کر دیتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ پس ان حسنات کو اور لذات کو دل میں رکھ کر دعا کرے کہ وہ نماز جو کہ صدیقوں اور محسنوں کی ہے وہ نصیب کرے۔ یہ جو فرمایا ہے إِنَّ الْحَسَنَتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّاتِ (هود: 115) یعنی نیکیاں یا نماز بدیوں کو دُور کرتی ہے یا دوسرے مقام پر فرمایا ہے۔ نماز فواحش اور برائیوں سے بچاتی ہے اور ہم دیکھتے ہیں کہ بعض لوگ باوجود نماز پڑھنے کے پھر بدیاں کرتے ہیں۔ اس کا جواب یہ ہے کہ وہ نمازیں پڑھتے ہیں مگر نہ روح اور راستی کے ساتھ۔“ نمازوں میں روح کوئی نہیں ہوتی۔ فرمایا: وہ صرف رسم اور عادت کے طور پر ٹکریں مارتے ہیں۔ ان کی روح مردہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کا نام حسنات نہیں رکھا اور یہاں جو حسنات کا لفظ رکھا الصلوٰۃ کا لفظ نہیں رکھا باوجو دیکہ معنی وہی ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ تا نماز کی خوبی اور حسن و جمال کی طرف اشارہ کرے