سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 178
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 146 ہے تو وہ اسے خوب یاد رہتا ہے اور پھر اگر کسی بد شکل اور مکروہ ہیئت کو دیکھتا ہے تو اس کی ساری حالت باعتبار اس کے مجسم ہو کر سامنے آجاتی ہے۔ ہاں اگر کوئی تعلق نہ ہو تو کچھ یاد نہیں رہتا۔“ بد صورتیاں اور خوبصورتیاں بھی انسان کو اس لئے یاد رہتی ہیں کہ ایک توجہ دے کر دیکھ رہا ہوتا ہے۔ لیکن اگر کوئی تعلق نہ ہو تو کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اسے کچھ نہیں یا درہتا۔ فرمایا کہ : اسی طرح بے نمازوں کے نزدیک نماز ایک تاوان ہے کہ ناحق صبح اٹھ کر سردی میں وضو کر کے خواب راحت چھوڑ کر ، کئی قسم کی آسائشوں کو کھو کر پڑھنی پڑتی ہے۔“ اصل بات یہ ہے کہ اُسے بیزاری ہے۔ فرمایا کہ : 66 اصل بات یہ ہے کہ اسے بیزاری ہے۔ وہ اس کو سمجھ نہیں سکتا۔ اس لذت اور راحت سے جو نماز میں ہے اس کو اطلاع نہیں ہے“۔ اس کو پتا ہی نہیں کہ نماز میں کیا لذت اور راحت ہے۔ فرمایا: 66 پھر نماز میں لذت کیونکر حاصل ہو ۔ “ آپ فرماتے ہیں کہ : میں دیکھتا ہوں کہ ایک شرابی اور نشہ باز انسان کو جب سرور نہیں آتا تو وہ پے در پے پیالے پیا جاتا ہے یہاں تک کہ اس کو ایک قسم کا نشہ آجاتا ہے۔ دانشمند اور بزرگ انسان اس سے فائدہ اٹھا سکتا ہے اور وہ یہ کہ نماز پر دوام کرے۔“ باقاعد گی کرے۔ جب تک مزا نہ آئے نمازیں پڑھتا جائے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا رو جائے کہ اے اللہ ! مجھے نماز میں وہ سرور اور حظ دے جو اور چیزوں میں تو نے دیا ہوا ہے۔ فرمایا: ” دوام کرے اور پڑھتا جاوے یہاں تک کہ اس کو سرور آجاوے۔ اور جیسے شرابی کے ذہن میں ایک لذت ہوتی ہے جس کا حاصل کرنا اس کا مقصود بالذات ہوتا ہے۔ اسی طرح سے ذہن میں اور ساری طاقتوں کا رجحان نماز میں اسے سرور کا حاصل کرنا ہو۔“ ساری جو قوتیں ہیں اس طرف لگائے کہ میں نے نماز میں سرور حاصل کرنا ہے۔ نماز کا مزا اُٹھانا ہے۔ فرمایا: